Tafeem e ebarat | تفہیمِ عبارت | Shali mar bag | مغل بادشاہ | Reading Paragraphs | Level IV till VII - E-Learn

Latest

Easy Way To Learn

Sponser

Tafeem e ebarat | تفہیمِ عبارت | Shali mar bag | مغل بادشاہ | Reading Paragraphs | Level IV till VII

سوال ۔ درج ذیل  تفہیمِ عبارت کو غور سے پڑھیں اور نیچے دیئے گئے سوالات کو مختصر جواب تحریرکریں۔               

شالا مار باغ لاہور کے باغوں میں خاص تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔ اس باغ کی تعمیر 1637ء میں شروع ہوئی تھی اور اسے 1641ء میں مکمل کیا گیا ۔ باغ مسطیل شکل میں ہے۔ اس باغ کے تین حصے ہیں۔ فرح بخش یعنی خوشی پہنچانے والا یہ سب سے اوپر والا حصہ ہے۔ درمیانی حصہ کو" فیض بخش" کہتے ہیں۔ یعنی فائدے پہنچانے والا اور سب سے نیچے والے حصے کو "حیات بخش " کہتے ہیں۔ یعنی زندگی بخشنے والا۔ پورے باغ میں 410فوارے ہیں۔ ان فواروں کا پانی سنگِ مر مر سے بنے ہوئے حوضوں میں گرتا ہے۔ یہ فوارے گرمیوں کے موسم میں باغ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے لگائے گئے تھے۔ اس باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی پانچ خوبصورت بارہ دریاں بھی ہیں برسات کے موسم میں بادشاہ شاہ جہان یہاں بیٹھ کر بارش کانظارہ کرتا تھا۔

     شالا مار باغ کہاں واقع ہے۔

     شالا مار باغ کس بادشاہ نے بنوایا تھا؟

     شالا مار باغ  کے کتنے حصے ہیں اور ان کے کیا نام ہیں؟

     شالا مار باغ میں موجود فواروں کی تعداد کتنی ہے اور وہ کس مقصد کے لیے لگائے گئے تھے؟

-------------------------------                                   

مندرجہ ذیل تفہیمِ عبارت کو پڑھ کر دیے گئے سوالات کے جوابات لکھیں۔       

آج 14 اگست کو ساجد صاحب حسبِ معمول تیار ہو کر گاڑی میں نکلے، رضا اور آمنہ کو ساتھ لے کر وہ سب سے پہلے مزارِ اقبال پہنچے۔ انہوں نے مزار پر فاتحہ پڑھی۔ شہر بھر میں جشن کا سماں تھا۔ گھر، بازار، گلیاں، دکانیں اور سڑکیں رنگا رنگ  جھنڈوں اور جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ نوجوان موٹر سائیکلوں کو پاکستانی جھنڈوں سے سجائے گھوم رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر ساجد صاحب بہت خوش ہو رہے تھے۔ انہیں آزادی کی نعمت کا صحیح شعور تھا۔ وہ بچوں کو ساتھ لیے جشنِ آزادی کی تقریبات کے مختلف مناظر دیکھتے رہے۔گھر واپس آکر رضا نے دادا جان سے پوچھا: دادا جان! "یہ تہوار اور جشن کیوں منا ئے جاتے ہیں؟" دادا جان نے کہا جس طرح لوگ اپنی زندگی کے اہم دنوں کو یاد رکھتے اور ان پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اسی طرح قوموں کی اجتماعی زندگی میں بھی بعض  دن اہمیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کو یاد رکھنے کے لیے جشن اورتہوار منائے جاتے ہیں۔ یہ سب قومی تہوار کہلاتے ہیں۔

i۔      ساجد صاحب حسبِ معمول تیار ہو کر  کہاں جا رہے تھے؟

ii۔     نوجوان موٹر سائیکلوں کو سجا کر کیوں گھوم رہے تھے؟

--------------------------------------------- 

سوال ۔ مندرجہ ذیل عبارت کو پڑھ کر دیے گئے سوالات کے  جوابات تحریرکریں۔                     

سارہ باجی نے آج بچوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں اور ان میں بسنے والوں کے رہن سہن کے بارے میں ایک دل چسپ اور معلوماتی دستاویزی فلم دکھائی ۔کیا شان دار فلم تھی۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے کوئٹہ، خضدار، ثوب اور گوادر اس کے مشہور شہر ہیں۔ کوئٹہ صوبہ کا صدر مقام بھی ہے۔ اسے پھلوں کی وادی کہتے ہیں۔ سجی یہاں کا مشہور اور ہر دل عزیز کھانا ہے۔

سکرین پر اب ساحل سمندر کا مشہور مقام کلفٹن دکھائی دیا۔ اب صوبہ سندھ کے بارے میں معلومات دی جا رہی تھیں۔ کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور حیدر آباد صوبہ سندھ کے مشہور شہر ہیں۔ کراچی اس صوبے کا صدرِ مقام بھی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا گنجان آباد شہر ہے۔ کراچی کو عروس البلاد اور روشنیوں کا شہر بھی کہتے ہیں۔ ربی، اجرک اور سوسی کے بنے ہوئے کپڑے صوبہ سندھ کی منفرد شناخت ہیں۔ کراچی کی بریانی، حیدر آباد کی پلہ مچھلی یہاں کے لذیذ پکوان ہیں۔ وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے آثار بھی اس صوبے میں موئن جودڑو کے مقام پر پائے جاتے ہیں۔

1۔     صوبہ سندھ کے کون سے شہر مشہور ہیں؟ ان کے نام لکھیں۔

2۔     بلوچستان کا ہر دل عزیز کھانا کونسا ہے؟

3۔     کراچی شہر کو کیا کیا کہا جاتا ہے؟

سوال نمبر دیے گئے پیراگراف کی درست تلفظ اور روانی کے ساتھ پڑھائی کریں۔

                                انٹرنیٹ آنے کے بعد سے زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اس نے خریداری بینکاری اور دیگر کام بے حد آسان کر دیے ہیں۔ اس کی مدد سے اسکول اور دیگر تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا، فیس اور بل ادا کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ہم انٹرنیٹ ، اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا بہترین فائدہ ہمیں کورونا وائرس کی عالمی وبا کےدوران حاصل ہوا۔ دنیا بھر میں  ہنگامی حالات کے دوران  کاروبار اور لوگوں کا میل جول تقریبا ختم ہو گیا تھا۔ تب سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں رہے اور حال چال دریافت کرتے رہے ۔ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہوتی تو طلبا کا مستقبل تباہ ہو جاتا، لیکن اسکولوں نے آن لائن پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا اور طلبہ تعلیم سے جڑے رہے۔ امید ہے کہ آئی ٹی کے بارے میں بنیادی باتیں تم نے ذہن نشین کر لی ہوں گی۔

----------------------------------------

 زیادہ تر لوگ بے خبر سو رہے تھے اور جو جاگ رہے تھے انہیں بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ چند لمحوں کے بعد سیلابی ریلا ان کی کچی بستی کو بہا لے جائے گا۔ ادھر نانی کھانس کھانس کر بے ہوش ہو چکی تھیں اور بے چارہ اکرم تو بولنے کی صلاحیت سے ہی محروم تھا۔ وہ بے حد پریشان تھا کہ اب کرے تو کیا کرے؟بستی کے لوگوں کی کیسے جان بچائے کیوں کہ  سیلاب کا پانی  تیزی سے بستی کی طرف بڑھ رہا تھا۔اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی، "اے اللہ!میری مدد فرما۔" اچانک وہ دعا کر ہی رہا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک خیال آیا ۔ اس نے جلدی جلدی مٹی کا تیل اپنی جھونپڑی پر چھڑکا اور آگ لگا دی۔ گھاس پھونس کی بنی جھونپڑی پل بھر میں تیزی سے جلنے لگی اور آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔

----------------------------------------

اکرم ایک یتیم لڑکا تھا۔ ابھی وہ بہت چھوٹا تھا کہ اس کے والدین انتقال کر گئے۔ بس اس کی ایک بوڑھی نانی تھیں جنہوں نے اسے پالا پوسا تھا مگر اب نانی بھی بہت بیمار رہنے لگی تھیں۔ اکرم دریا کے کنارے ایک چھوٹی سی بستی میں رہتا تھا جس میں کل پندرہ بیس گھر تھے۔ سب غریب مچھیرے تھے اور دریا سے مچھلیاں پکڑ کر اپنی گزر بسر کرتے تھے۔اکرم کو بھی ماہی گیری آتی تھی مگر وہ اپنی بیمار نانی کو چھوڑ کر دریا  پر نہ جاتا بلکہ گھر پر ہی رہ کر مچھلیاں پکڑنے کا جال بنتا اور جب جال مکمل ہو جاتا تو اسے کسی مچھیرے کے ہاتھ بیچ کر کچھ رقم حاصل کر لیتا اور روکھی سوکھی کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا۔ اکرم کی جھونپڑی ایک اونچی چٹان پر تھی جبکہ بستی کے دیگر گھر نیچے زمین پر تھے۔اونچی چٹان پر بہت جگہ تھی جہاں  وہ آرام سے زمین پر جال بچھا سکتا تھا اور اپنا کام آسانی سے کر سکتا تھا۔

 



No comments:

Post a Comment

Please not enter spam links/website links in the comment box . Strictly forbidden.

Youtube Channel Image
Islamic Media | Malik Kashif Raza Please Subscribe to My YouTube Channel for New Islamic Videos
Subscribe