Khurafat o Gumrahi k Gar Shaho | Double Shah | Sherak o Bidat | Astanay - E-Learn

Latest

Easy Way To Learn

Sponser

Khurafat o Gumrahi k Gar Shaho | Double Shah | Sherak o Bidat | Astanay

 خرافات و گمراہی کے گڑھ شاہوں کے آستانے

تمدّن، تصوّف، شریعت، کلام                                                    حقیقت خرافات میں کھو گئی

بتان عجم کے پجاری تمام!                                                          یہ امت روایات میں کھو گئی

            بیشک اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں، اولیاءو صالحین کے مزارات، خانقاہیں شعائر اللہ میں سے ہیںاور اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ کریم نے اپنے نیک بندوں کے آستانوں پر فیوض و برکات رکھی ہیں اور مخلوق خدا ہر دور میں مزارات اولیاءاللہ پر حاضر ہوکر فیض پاتی رہی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے آقا و مولا حضور سید عالم ﷺ کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر آپ ﷺ سے فیض حاصل کیا کرتے تھے ، تابعین کرام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مزارات پر حاضر ہوکر فیض حاصل کیا کرتے تھے‘ تبع تابعین‘ تابعین کرام کے مزارات پر حاضر ہوکر فیض حاصل کیا کرتے تھے۔صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اولیاءکرام کے مزارات پر آج تک عوام وخواص حاضر ہوکر فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں ۔

            تصوف جو ایک روحانی نظام تربیت کا نام ہے بدقسمتی سے آج اس میں بہت سے تضادات و اختلافات کی وجہ سے خرافات کی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ تصوف محض چند رسومات کی حد تک ہی رہ گیا ہے۔ تصوف کی بنیاد جس اخلاص پر تھی آج نام نہاد صوفیاءنے اسے ریاکاری اور دکھاوے کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ جعلی پیروں نے تعویذ گنڈوں ،دم درود اور عرس منانے اور میلے لگوانے تک ہی ساری طریقت کو محدود کر دیا ہے۔ طریقت اور تصوف صرف اس بات سے عبارت ہو کر رہ گئے ہیں کہ بیعتِ شیخ کی جائے۔ اس کے بعد نہ شیخ کو خبر کہ میرا مرید کہاں اور کس حال میں ہے اور نہ ہی مرید کو شیخ کے حال کی خبر ، بس تصوف اور بیعت محض رسمی سی چیز بن کر رہ گئے ہیں۔ سال بعد عرس وغیرہ کے نام پر سب مریدین کو آستانہ پر اکٹھا کر لیا، یا پیر صاحب نے مریدین کے ہاں سالانہ دو چار دورے کر لئے، نذر نیاز وصول کر کے چلے گئے۔ اس طرح تصوف جو حب جاہ اور حب دنیا ترک کرنے کی تعلیم دیتا تھا ایک کاروبار بن کر رہ گیا۔ تصوف و طریقت میں جانشینی اور وراثت کا تصور پیدا ہو گیا ہے اس طرح خانقاہی نظام میں بے پناہ قباحتیں، خلاف شریعت، خلاف طریقت امورداخل ہو گئے۔ سجادہ نشینی کا نسل در نسل نظام زوال پذیر ہوتے ہوئے عملاً یہ صورت اختیار کر گیا ہے جسے حکیم الامت یوں بیان فرماتے ہیں۔

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

            تصوف پر ایک ظلم یہ ہوا کہ علمائے دین تعلیم و تربیت کے پہلو سے بے توجہی برتنے لگے ہیں، تصوف کے لئے کوئی مقام نہ دینی و شرعی علوم میں رہا نہ کسی خانقاہ میں۔ تصوف میں دوسرا بڑا فتنہ جو نام نہاد پیروں اور جھوٹے مفاد پرست دنیا دار صوفیوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھایا ہے، شریعت کو مولویت کا نام دے کر بدنام کرنے کی تعلیم دی ہے۔ ان کے نزدیک قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم مولویوں کا کام ہے اولیاءو صوفیاءکا نہیں۔ میں کئی ایسی معروف گدیوں کو جانتا ہوں کہ جن سے لوگ اگر کوئی شرعی و فقہی مسئلہ دریافت کرتے تو ان کا یہ جواب ہوتا ہے کہ ایسے مسئلے مسائل مولویوں سے پوچھا کرو ، یہ ولیوں کا کام نہیںہے۔ علوم شرعیہ کی اس طرح نفی کی جا رہی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید طریقت، روحانیت، معرفت، ولایت اور حقیقت کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ہمارے معاشرے میں ایک عرصے سے جعلی اور نام نہاد پیروں، آستانوں اور بد عمل مرشدوں کی بہتات ہوگئی ہے۔ہر گلی محلہ اور دیہات و قصبات میں کسی نہ کسی شاہ کا آستانہ دیکھنے کو ملتاہے ، بد عملی اور نت نئی خرافات یہاں سے فروغ پا رہی ہیں۔ شاہوں کے عرسوں اور میلوں پر کیا کچھ نہیں ہوتا، وہ کسی صاحب نظر و فکر سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بتایا جائے کہ ایک پیر صاحب، ایک صاحب طریقت ، ایک رہبر شریعت کے آستانے پر مجرے، بھنگڑے، خواجہ سراں اور ڈانسر ناچنے گانے والی کا کیا کام ہے؟سائیکل گرانڈ، لکی ایرانی سرکس،ڈرامے، موسیقار، فنکار، ٹھیٹھر، ڈھول ، دھمال ، رقص کس مقصد کے لئے ہیں؟ شراب، جوئے، بھنگ، چرس، بد نگاہی و بد فعلی کے اڈے ، کیا کچھ بدفعلیاں اور خرافات نہیں ہوتی ہیں جن کا اسلام اور اہل اسلام سے دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ ایک رہبر شریعت کے آستانے پر؟ اُف! یہ کیسی رہبری ہو رہی ہے امت کی؟ یہ کیسی طریقت اور کیسے اسلوب سیکھائے جا رہے ہیں امت کو؟ یہ کیسا بدعملی اور دین سے دوری کا درس دیا جا رہا ہے؟ کیا مزار والا یہ وصیت کر کے گیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر پر خواجہ سرا


ں اور کنجریوں کے ڈانس کروانا،ناچ راگ کرنا، بھنگڑے اور دھمالیں ڈالنا، مجرے، ڈرامے اور ٹھیٹھر لگانا اور ہر طرح کی حرام کاری، بدفعلی اور خرافات کرنا؟جہاں بھر کی گندگی ایک پیر صاحب کے میلے پر دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ ایک پیر صاحب کے دربار سے زیادہ بے حیائی کے اڈے نظر آتے ہیںجہاں اجنبی مردوں کے ہجوم میں بے پردہ عورتیں گھل مل کے شیطان کےلئے راحت کا سامان باندھ رہی ہوتی ہیں اور خدا کے قہر و غضب کو دعوت دیتی نظر آتی ہیں۔کہاں اور کس آیت یا حدیث میں لکھا ہے کہ بے پردہ و نیم پردہ عورتیں ہجوم میں پیر کے دربار پر حاضر ہوں اور اجنبی مردوں کے ساتھ گھل مل کر دربار کی زینت بنیں؟اللہ کریم تو قرآن میں حکم دے رہا ہے کہ

اور تم اپنے گھروں مےں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جےسے اگلی جاہلےت کی بے پردگی، اور نماز قائم رکھو اورزکوة دو اور اللہ عزوجل اور اس کے پےارے رسولﷺ کا حکم مانو۔

            حدیثیں بھی کچھ اور بیان کر رہی ہیں مگر یہ باطل روایات پتہ نہیں کہاں سے ہمارے اندر داخل ہو گئی ہیں۔ احادیث میں تو ہے کہ

            ”جو عورت عطر اور خوشبولگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تاکہ مرد اس کی طرف دےکھےں اور مائل ہوں تووہ عورت زناکار ہے اور ہر آنکھ جو اس کی طرف دےکھے وہ زناکار ہے۔“   (نسائی، ابن خزےمہ)

            ” انسان کی آنکھےں زناکرتی ہےں ، اس کے ہاتھ پاں زنا کرتے ہےں اور اس کی شرمگاہےں زنا کرتی ہےں۔“ مسند امام احمد)

            ”نا محرم کو دےکھنا آنکھ کا زنا ہے، نامحرم سے بات کرنا زبان کا زنا ہے، نامحرم کو چھونا ہاتھ کا زنا ہے اور نامحرم کی طرف چل کر جانا قدموںکا زنا ہے۔“ (بخاری ومسلم شرےف)

            ”عورت سراپا ستر ( پوشےدہ رہنے کے قابل ہے) جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شےطان اس کی تاک مےں لگ جاتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے قرےب تر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کی چاردےواری کے اندر ہوتی ہے۔“ (ترمذی، مشکوةشرےف)

            ”عورت شےطان کے روپ مےں سامنے آتی ہے اور شےطان کے روپ مےں واپس لوٹتی ہے۔“ (مسلم شرےف)

            ” جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی مےں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تےسرا ساتھی شےطان ضرور ہوتا ہے۔(نامحرم مرد ،عورت کا تنہا بےٹھنا ، باتےںکرنا اورچلنا پھرنا حرام ہے)۔(ترمذی شرےف)

            ” عورتےں اپنے محرموں کے سوا اور مردوں سے باتےں نہ کرےں۔“ (ابن سعد)

            ”عورتوں کےلئے گھر سے باہر نکلنے کا کوئی حق نہےں مگر ےہ کہ مجبور و مظہر ہوں ۔عورتوں کےلئے راستے پر چلنے کا کوئی حق نہےں سوائے اےک طرف چلنے کے۔“ (طبرانی فی الکبےر )

            ” جو عورت تنہا اپنے گھر سے نکلے تو وہ اس وقت تک قہر خداوند ی کا نشانہ بنی رہتی ہے جب تک گھر واپس نہ لوٹ آئے۔“ (کنز العمال)

مزارات اور مقالات اعلیٰ حضرتؒ:

            آج جو کچھ مزارات اولیاءپر ہو رہا ہے ہم اہل سنت ، علماءحق اہل سنت اس کا ڈٹ کر انکار کرتے ہیں ۔ یہ لوگ جہلا میں سے ہیں ۔ یہ زمانے کے بدترین جاہل لوگ ہیںان کا اہل سنت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہمارے اسلاف اور بزرگوں کی تعلیمات ہیں۔ نہ یہ امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کا درس ہے۔ بعض مخالف اور اما م اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ سے بغض رکھنے والے لوگ یہ سب آپ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں کہ یہ آپ کے بعد شروع ہوا ، اور آپ کی تعلیمات میں سے ہے۔یہ سراسر غلط اور بہتان ہے آپ کی تعلیمات بھی یہ نہیں تھیں۔ آپ سے عورتوں کے مزارات پر جانے سے متعلق پوچھا گیا کہ جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا۔

غنیہ میں ہے یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزاروں پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبر کی جانب سے۔ جس وقت عورت گھر سے ارادہ کر کے نکلتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس نہیں آ جاتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ رسول اللہ ﷺ کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں۔ وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے اور قرآن کریم نے اسے مغفرت کا ذریعہ بتایاہے۔ (ملفوظات شریف ص 240‘ ملخصاً رضوی کتاب گھر دہلی)

             اگر ہم لوگ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی کتابوں اور آپ کے فرامین کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بدعات و منکرات کے قاطع یعنی ختم کرنے والے تھے۔ اب یہ بات چلی ہے تو مزارات ، عرس و میلہ پر ہونے والے خرافات کے متعلق آپ ہی کے کچھ مزید فرامین پیش کر تا ہوں تاکہ حقیقت آشکار ہو۔

            1۔ امام اہل سنت سے مزار شریف کو بوسہ دینے اور طواف کرنے کا پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا۔

            ” سجدہ قبور بلاتفاق حرام، طواف قبور بلاتفاق حرام، بوسہ قبور مختلف چیز، بہتر یہ ہے کہ نہ دیا جائے۔ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ کےلئے ہے۔ مزار شریف کو بوسہ دینا جائز ہے یا نہیں۔ علماءکا اس مسئلے میں اختلاف ہے، اکثر علماءاس کے قائل ہیں مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔ آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیں ہوسکتی۔ ہاتھ باندھے الٹے پاو


¿ں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز (بچا) کیا جائے۔  (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

            مزار میں قدموں کی طرف سے حاضر ہوں اور کم از کم چار ہاتھ فاصلے پر کھڑے ہوں، درمیانی آواز میں سلام کہیں، فاتحہ پڑھیں اور دعا مانگیں۔ مزار کو نہ بوسہ دیں اور نہ قبر کو ہاتھ لگائیں۔ قبر کو سجدہ تعظیمی کرنا حرام ہے اور اگر عبادت کی نیت سے کیا جائے تو کفر ہے۔ ( ماخوذ فتویٰ رضویہ)

            حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی تعلیم کیاتھی کہ گردن کٹتی ہے توکٹ جائے مگر خدا کے سواءکسی کے آگے سر نہیں جھکانا۔ مغل شہنشاہ جہانگیر عالمگیر ترکیبیں کر تا رہ گیا کہ آپ سجدہ نہیں کرتے تو سر ہی جھکا دیں۔ آپ نے فرمایا نہیں جھکا


ں گا۔تو شہنشاہ نے آپ کے لئے جالا بُنا اور چال چلی، سازش کی، دربار میں بلاویا تو دروازہ چھوٹا رکھاکہ آپ جب دروازے سے گذریں گے سر جھکا کے ہی گذریں گے تو کہوں گا لو سر جھکا ہی لیاکی۔آپ جب دروازہ پر پہنچے تو سمجھ گئے کہ یہ میرے لئے جال بُنا گیا ہے تو آپ نے سر کی بجائے پہلے اپنی ٹانگیں داخل کیں تاکہ سر بلند ہی رہے۔ حکیم الامت حضرت اقبال علیہ الرحمہ خراج پیش کرتے ہیں۔یہ اےسے اللہ والے تھے کہ آج بھی ان کے جسد خاکی زیر فلک انوار و تجلیات کی کرنیں بکھیر رہے ہیں اور اےمان و ہدایت کا نور ان کے دم سے روشن ہے۔

حاضر ہوا میں شےخ مجدد کی لحد پر

وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

2۔ روضہ انور پر حاضری کا صحیح طریقہ:

            امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ خبردار جب کبھی رسول اکرم ﷺ کے روضہ انور پر حاضری کا شرف ہو تو جالی شریف (حضورﷺ کے مزار شریف کی سنہری جالیوں) کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے بلکہ (جالی شریف) سے چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاو


¿۔ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا، اپنے مواجہ اقدس میں جگہ بخشی، ان کی نگاہ کرم اگرچہ ہر جگہ تمہاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10 ص 765، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

روضہ انور پر طواف و سجدہ منع ہے۔

            امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں روضہ انور کا طواف نہ کرو، نہ سجدہ کرو، نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ حضور کریم ﷺ کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد 10ص 769 مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

            آج کل لوگ صرف تعظیم کو ہی دین سمجھتے ہیں اور عملی اطاعت سے روگردانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی تعظیم کر لو، حرمین شریف کی تعظیم کر لو، اکابرین و پیروں کی تعظیم کر لو مگر ان کی تعلیمات کیا ہیں؟ ان کا درس کیا ہے؟ وہ پس پست پھینک دیتے ہیں۔وہ تعظیم کو آسان سمجھتے ہیں اور اطاعت کو اپنے اوپر بھاری تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر ظاہری تعظیم نہ بھی کی جائے اور فرمان سن کر اطاعت کر لی جائے تو یہ تعظیم سے ہزار گنا بڑھ کر ہے۔ تعظیم اطاعت میں ہے، تعظیم اطاعت میں ہے۔ اگر اطاعت نہیں ہے تو تعظیم بیکار ہے۔کوئی فائدہ نہیں ہوگا ایسی کھوکھلی تعظیم کا جس میں اطاعت نہ ہو۔

3۔ مزارات پر چادر چڑھانا:

            امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا تو جواب ارشاد فرمایا ”جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام چادر پر صرف کر نے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کی نیت سے کسی محتاج و ضرورتمند کو پیش کر دیں یہ بہتر عمل ہے۔ اس سے اس برزگ کی روح کو بھی ایصال ثواب پہنچ جائے گا اور کسی ضرورتمند کی حاجت بھی پوری ہو جائے گی۔ “ (احکام شریعت حصہ اول ص 42)

4۔       امام اہل سنت سے عرس و میلہ میں آتش بازی اور نیاز کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا۔

            ” آتش بازی اسراف ہے اور اسراف حرام ہے، کھانے کا ایسا لٹانا بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے۔ تصنیع مال ہے اور تصنیع حرام۔ روشنی اگر مصالح شرعیہ سے خالی ہو تو وہ بھی اسراف داخل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24ص 112‘ مطبوعہ رضا فاو


¿نڈیشن لاہور)

5۔       آپ سے عرس و میلہ پر رنڈیوں اور خواجہ سرا


ں کے ناچ راگ کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا۔

            ”رنڈیوں اور خواجہ سرا


ں کا ناچ بے شک حرام ہے۔ اولیائے کرام کے عرسوں میں بے قید جاہلوں نے یہ معصیت پھیلائی ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 29ص 92‘ مطبوعہ رضا فاو
¿نڈیشن لاہور)

6۔        امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزامیر یعنی آلات لہو و لعب بروجہ لہو و لعب بلاشبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیائے کرام و علماءکرام دونوں فریق مقتداءکے کلمات عالیہ میں مصرح، ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہے اور حضرات علیہ سادات بہثت کبرائے سلسلہ عالیہ چشت کی طرف اس کی نسبت محض باطل و افتراءہے۔“ (فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص 54)

7۔ چراغ جلانا

            عرصہ داراز سے ہمارے معاشرہ میں روایت چلی آ رہی ہے کہ عرس و میلہ کے آخری رسومات میں چراغ بندی کی جاتی ہے۔ محلہ بھر کی خواتین میلہ کی آخری شب چراغ جلا کر میلہ گاہ جاتی ہیں، بتیاں جلا کر مزار کے گرد چکر کاٹتی ہیں جو طواف سے متشابہ ہے اور طواف سوائے بیت اللہ شریف کے کسی دوسری جگہ حرام ہے خواہ وہ کتنی ہی مقدس کیوں نہ ہو۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں سوال کیا گیا توآپ نے شیخ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ کی تصنیف حدیقہ ندیہ کے حوالے سے تحریر فرمایا کہ قبروں کی طرف شمع لے جانا بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے ۔ اگرچہ قبر کے قریب تلاوت قرآن کے لئے موم بتی جلانے میں حرج نہیں مگر قبر سے ہٹ کر ہو۔“ (البریق المنار بشموع المزار ص 9 مطبوعہ لاہور)

            ایک اور جگہ اسی قسم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا۔          ”اصل یہ کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور جو کام دینی فائدے اور دنیوی نفع جائز دونوں سے خالی ہو عبث ہے اور عبث خود مکروہ ہے اور اس میں مال صرف کرنا اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔

8۔ اگربتی اور لوبان جلانا

            امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے قبر پر اگر بتی اور لوبان وغیرہ جلانے کے متعلق دریافت کیا گیا توآپ نے جواب دیا گیا ” عود، لوبان وغیرہ کوئی بھی چیز نفس قبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز کرنا چاہئے (بچنا چاہئے) اگرچہ کسی برتن میں ہو اور قبر کے قریب سلگانا (اگر نہ کسی تالی یا ذاکر یا زائر حاضر خواہ عنقریب آنے والے کے واسطے ہو) بلکہ یوں کہ صرف قبر کے لئے جلا کر چلا آئے تو ظاہر منع ہے اسراف (حرام) اور اضاعیت مال (مال کو ضائع کرنا ہے) میت صالح اس عرضے کے سبب جو اس قبر میں جنت سے کھولا جاتا ہے اور بہشتی نسیمیں (جنتی ہوائیں) بہشتی پھولوں کی خوشبوئیں لاتی ہیں۔ دنیا کے اگر اور لوبان سے غنی ہے ۔  (السنی الانیقہ ص 70 مطبوعہ بریلی ہندوستان)

            امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اولیاءکرام کے مزارات پر ہر سال مسلمانوں کا جمع ہوکر قرآن مجید کی تلاوت اور مجالس کرنا اور اس کا ثواب ارواح طیبہ کو پہنچانا جائز ہے کہ منکرات شرعیہ مثل رقص و مزامیر وغیرہ سے خالی ہو، عورتوں کو قبور پر ویسے جانا چاہئے عام دنوں میں اہل خانہ کے ساتھ، نہ کہ مجمع میں بے حجابانہ اور تماشے کا میلاد کرنا اور فوٹو وغیرہ کھینچوانا یہ سب گناہ و ناجائز ہیں جو شخص ایسی باتوں کا مرتکب ہو، اسے امام نہ بنایا جائے۔ “  (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 216‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

            آج ہم معاشرہ میں چلتے پھرتے دیکھتے ہیںکہ جگہ جگہ محلوں، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جعلی پیروں، عاملوں کا ایک گروہ سرگرم عمل ہے، جوالٹے سیدھے تعویذ دھندے، فال نامے نکال کر عوام کے عقائد کو متزلزل کرتے ہیں، سادہ لوح مسلمانوں کو بٹورتے ہیں ۔ ان سب کے سب جعلی باباں، پیروں اور عاملوں کو مسلک حق اہل سنت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے کہ یہ سب ایسے ہی ہیں۔ موجودہ دور میں ہر جانب جاہل پیروں اور جعلی صوفیوں کا ڈیرہ ہے، نادان لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اور اپنا مال ان پر لٹاتے ہیں پھر جب ہوش آتا ہے تو چیخ اٹھتے ہیں کہ پیر صاحب نے ہمیں لوٹ لیا۔ ہمارا مال کھالیا۔ ہماری عزت پامال کردی اور ہماری غرض بھی پوری نہ ہوئی۔ اسی لئے امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے جاہل فقیر و پیر اور صوفی سے بیعت کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ ہمیشہ سنی صحیح العقیدہ عالم اور پابند شریعت پیر سے بیعت کی جائے ۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ جاہل و بے عمل پیر، فقیرو صوفی کا مرید ہونا کیسا ہے؟

            آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ” بلاشبہ جاہل پیر و فقیر کا مرید ہونا شیطان کا مرید ہونا ہے۔“ (ملفوظات شریف ص 297‘ مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

            امام ا ہل سنت کی تعلیمات تو یہ تھیں مگر آج اس کے برعکس جو کچھ مزارات اولیا ءپر ہو رہا ہے وہ سارے کا سارا سراسر اس کے منافی ہے۔یہ سب ہرگز آپ علیہ الرحمہ کی تعلیمات میں سے نہیں ہے اور جو لوگ یہ سب آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ سراسر بہتان اور افتراءکرتے ہیں۔ مزارات پر خرافات کرنے کروانے والے لوگ جہلا میں سے ہیں اور جہلاءکی حرکات کو تمام اہل سنت پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے اور امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

             عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ عرسوں اور میلوں پر ایسے لوگوں کی بہتات ہوتی ہے جو انتہا درجہ کے شیطان سیرت ہوں ، خائن اور بدکار ہوں، جن کا یہ نعرہ ہے ” یا علی! ہم تیرے ہیں عمل کے لئے اور بتھرے ہیں“ اور ”علی دے متوالے ،پی کے بھنگ دے پیالے، کہندے فیصلے ملنگاں دے مکانے یا علی“۔ کہتے ہیں کہ ہم علی کے ملنگ ہیں، قلندر و سخی کے ملنگ ہیں ہم سے کسی عمل کی بات نہیں کرنی ، وہ جانے اور عمل جانے، ہاں البتہ ہر قسم کے نشے، بھنگ ، شراب، چرس، جوا ءاور ہر طرح کی بدفعلی اور حرام کاری کے لئے ہم حاضر ہیں۔ سیدنا علی وجہہ اللہ الکریم معاذ اللہ! ان علی کے نعرے بازوں کی طرح بد عمل تو نہیںتھے اور وہ کسی بد عمل کو گلے لگانا تو کیا ایک نظر تک دیکھ لینا بھی گوارا نہیں کریں گے۔وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! جن کا فرمان ہے کہ

             ” اگر کسی بہتے دریا میں شراب کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے اور کچھ عرصہ بعد وہ دریا خشک ہو جائے اور اس میں گھاس اُگ آئے اور وہ گھاس میرا گھوڑا کھا لے تو میں اس گھوڑے کی سواری کرنا پسند نہیں کرونگا“۔

            کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شراب خور نعرے بازوں کو سینے سے لگائیں گے؟کیا وہ ایسے لوگوں کی بخشش کا وسیلہ بنے گے جن کے منہوں سے سگریٹ، چرس و نشہ وغیرہ کی بو آتی ہے؟ آج جعلی پیروں، جعلی علی کے چاہنے والوں کی کہانیاں آئے روز منظر پر آتی رہتیں ہیں جنہیں دیکھ کر، سن کر کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔ان دین سے دور ، بد عمل لوگوں نے مسلک حق اہل سنت کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔

            امام اہل سنت، حضور سیدی اعلیٰ حضرت، عظیم المرتبت الشاہ امام احمد رضا خاںصاحب کے صاحبزادہ قبلہ مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے کسی صاحب نے آ کر سوال کیاکہ مجھے بتائیں کہ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کے نام کیا ہیں؟ آپ سوال سن کر اٹھ کر اندر گھر چلے گئے اور پےچھے وہ صاحب عقیدتمندوں سے بحث کرنے لگا کہ یہ مفتی اعظم ہیں جسے حضور کی صاحبزادیوں کے نام تک یاد نہیں اور وہ اندر کتاب دیکھنے چلا گیا ہے؟ تھوڑی دیر بعد جب مفتی اعظم تشریف لائے تو ان کے ہاتھ پا


ں گیلے تھے اور داڑھی مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔فرمایا! کتاب دیکھنے نہیں ، وضو کرنے گیا تھا اس لئے کہ بغیر وضو ایسی ہستیوں کا نام لینا بھی ان کی توہین و بے ادبی ہے۔ ہمارے بزرگوں کا درس تو یہ تھا۔ آج ایسے لوگ علی علی کرتے اور مقدس بیبیوں کے نام لیتے ہیں جو انتہائی گندی اور نجس حالت میں رہتے ہیں اور کئی کئی ماہ غسل نہیں کرتے۔ کیا یہ ان کی توہین نہیں ہے؟کیا یہ مقدس ناموں کی بے حرمتی و گستاخی نہیں ہے؟ ایک بزرگ صوفی شاعر فرماتے ہیں۔

گر نہ داری از محمد رنگ و بو

از زبان خود میسا لا نام او

            ےعنی اگر تمہاری سیرت و کردار ، اخلاق و اطوار اپنے نبی کریم ﷺ کے رنگ و بو سے بہرہ ور نہیں ، یا تم سے آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے اصحاب کے اخلاق حسنہ کی بو نہیں آتی تو تمہیں قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی ناپاک زبان سے ان کا نام تک لےنے کی جسارت کرو ۔

            آج ہم اپنے عوام الناس کا تو کیا رونا روئیں، ہمارے خواص اکثر رہبر ، گدی مکیںپیر حضرات، ہمارے قوال، ہمارے ثناءخواں ایسے آ گئے جن کی سیرت و اطوار اپنے اسلاف سے ملنا تو درکنار، ان کی ظاہری صورت ، ان کا واضع قطع، ان کا طرز عمل اپنے اسلاف سے ملتا نظر نہیں آتا۔وہ ایک طرف اپنے اسلاف ، اپنے بزرگوں کی ظاہری صورتیں رکھیں اور دوسری طرف مغرب کے نمونے اور پھر دیکھیں ، اپنا محاسبہ کریں کہ یہ ظاہری کن کے زیادہ قریب ہیں؟ کن سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں؟ جن کی ظاہری شکل و صورت ، واضح قطع اور طرز عمل اپنے بزرگوں سے نہیں ملتا ، ان کے اندر کی حب الوطنی، حب دینی پر کیسے یقین کر لیا جائے؟آج دین کے رہبر خود امت کو مغرب کی تقلید کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

فرضی آستانوں کی بہتات:

            ایک عرصہ سے ہمارے معاشرہ میں خیالی، جعلی اور فرضی آستانوں کی بھی بہتات ہوتی چلی جا رہی ہے۔ہمارے ہاں ضعف الاعتقادی اتنی پھیل گئی ہے کہ جہاں کہیں کوئی ٹیلہ، کری، ون یا شرعیں وغیرہ کا درخت ہو، اسے کسی نہ کسی ولی کا آستانہ تصور کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد وہاں علامتی قبر بن جاتی ہے ، کوئی نہ کوئی نام دے دیا جاتا ہے ۔ شیطان صوفی بن کر کسی بد عمل کے خواب میںآیا، کہا میں فلاں صوفی ہوں، فلاں ٹیلہ پر، فلاں درخت کے نیچے میرا مقبرہ ہے، وہاں میرا دربار بنوا


اور میلہ لگوایا کرو۔پھر وہاں علامتی قبر بن جاتی ہے، وہاں میلہ لگنے لگتا ہے، طرح طرح کی خرافات اور منکرات ہونے لگتی ہیں۔ لگتا ہے کہ بد عملی کی طرف راغب کرنے کا شیطان کویہ کھلا راستہ مل گیا کہ یہ اس طر ح دین کے نام پر صحیح طرح قابومیں آتے ہیں اور یہاں دین سمجھ کر ہر طرح کی شیطانیت بڑی عقیدت و احترام سے کرتے ہیں۔یہ محض فرضی بات نہیں لکھ دی گئی اس کے کئی ثبوت موجود ہیں۔ ہمارے گا
ں کے آس پاس چار ایسے آستانے بن گئے ہیں جن کی کوئی ہسٹری نہیں ہے۔چاروں کے منصہ شہود پر آنے کا سبب بد عملوں کے خواب ہیںجنہیں کلمہ اور نماز تک نہیں آتی۔ایک کی تو سجادہ نشین اور خواب بیان کرنے والی ایک مائی ہے جیسے پہلے کلمہ بھی نہیں آتا تھااور اب وہ پیرنی بن کر میری امی حضور کے پاس آ کر کلمے اور نماز یاد کرتی ہے۔اس کے جسم کے کسی حصہ میں درد کا اٹھنا پیر کی طرف سے کوئی نہ کوئی پیغام بتاتی ہے، جسم کے فلاں حصہ میں درد ہو تو یہ پیغام، فلاں میں درد ہو تو یہ پیغام،پھر وہ جہاں کہیں ہو فوری اپنے سب کام چھوڑ کر دربار پر پہنچتی ہے ۔ خواب میں دیکھائی جگہ پر اس نے دربار بنوا دیا ہے اور میلہ لگتا ہے۔

            اللہ کے ولی کبھی بے نام و نشاں نہیں ہوتے اور نہ ہی بے نام دنےا سے رخصت ہوئے کہ اکیسویں صدی میں انہیں اپنی پہچان کرانے کے لئے خوابوں کا سہارا لینا پڑ جائے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ اس بارے ہمارے رسول حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کیا تھیں؟ اور آپ ﷺ کا یہ حدیث بیان فرمانے کا مقصد کیا تھا؟یہ آپ ﷺ نے کیوں فرمایا کہ

             


©

© ” خبردار! اگر شیطان کوئی ( اولیاءو صوفیاء) کا روپ دھارکر تمہارے خوابوں میں کسی ایسی بات کا تذکرہ اور مطالبہ کرے جس کا وجود تمہارے دین میں نہ ملتا ہو، جو دین سے موافقت و مطابقت نہ رکھتا ہواس پر چلنے سے،اس پر عمل سے پرہیز کرنا۔ خبردار رہنا کہ شیطان سوائے میری صورت کے ہرطرح کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔“ ( بخاری و مسلم شریف، حدیث متفق علیہ)

            مطلب یہ کہ شیطان سوائے حضور نبی کریم ﷺ کی شکل و صورت کے سبھی پیر، پیغمبروںکی شکل اختیار کر سکتا ہے اور ایسے کام کروا سکتا ہے جو دین میں رہ کر، دین کے نام پر دین سے دوری کا سبب بنیں۔ کیا آج یہ منظر ہمارے چار سو دیکھنے کو نہیں مل رہا؟آج دین کے نام پر، دینی عقیدت کے ہوتے ہوئے ایسا کچھ ہو رہاجس کا خالص دین میں تصور تک نہیں کیا سکتا ہے۔سب رونا دھونا آ جا کے پھر علماءپہ ہی آجاتا ہے کہ انہوں نے سماج کو ایسے واقعات ہونے اور شیطان کی اولیاءکی شکل اختیار کرکے دین کے نام پر استعمال کرنے سے باخبر کیوں نہیں رکھا؟ایسے خیالی اور فرضی آستانوں سے دین کا دفاع کیوں نہیں کیا جو آج خرافات اور شیطانیت کا گڑھ بن چکے ہیں؟ چھتن شاہ، لچھن شاہ، ابن شاہ، ککڑ شاہ (جہاں جب تک دیسی ککڑ لے کر نہ جایا پیر صاحب حاضری قبول نہیں کرتا)، کاواں والی سرکار،مندراں والی سرکار، ٹالی والی سرکار، ٹلیاں والی سرکار، کانگنا والی سرکار، چھٹانکی پیر، گھوڑے شاہ، کوڑے شاہ،پیر دلہن شاہ ( جو خود کو رب کی دلہن کہتا ہے ) پتہ نہیں کیسے کیسے اخلاق سے گرے گھٹیا و بیہودہ نام۔ بلکہ یہاں تک آستانوں کے نام


©
©” بابا کاکی تاڑ“ ،” کڑی تاڑ شاہ“ بھی سننے کو ملے ہیں۔

نگہباں بن کے جو اہل چمن کی آبرو لوٹے

چمن والوں عقیدت چھوڑ دو اےسے نگہبا ں کی

             ہمارے سماج میں ہر طرف ایسے درباروں کی بہتات ہے جن کی کوئی ہسٹری نہیں ہے، جن کی کوئی دینی خدمات نہیں ہیں، البتہ اب وہاں لادینی خدمات اپنے پورے جوبن پر ہیں۔فیصل آباد آتے جاتے ہوئے ڈجکوٹ کے آس پاس دیکھتے ہیں کہ وہاںروز گم نام پیروں کے دربار ابھرتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں وہاں بلند گنبد کا مقابلہ لگا ہے کہ سب سے اونچا گنبد کس کا بنتا ہے۔پانچ پانچ، چھے چھے منزل اوپر جا کر اوپر جا کر ان کے گنبد بن رہے ہیں۔ کوئی دینی خدمات نہیں سنی اور قبر پر گنبد کئی منزل اوپر جارہے۔ یہ جتنی منزل اوپر جا رہے اتنے بے گھروں کو گھر نہیں دیا جا سکتا۔

            میں سمجھتا ہوں معاشرہ سے خرافات اور منکرات کو ختم کرنے کےلئے سرکاری سطح پر علماءکا ایک بورڈ تشکیل پانا چاہےے جو ایسے تمام مزارات کی ہسٹری اکٹھی کرے،ان کی دینی خدمات معلوم کرے، ان کے حقوق اللہ، حقوق العباد، دیگر فرائض و واجبات کا سراغ لگائے کہ کس حد تھے ، تقویٰ، طہارت و پاکیزگی، ایمانداری و پارسائی دیکھے کہ کس حد تک تھی۔ ایک لیول متعین کیا جائے کہ ایک پیر کس لیول پر جا کر دربار و مزار و مقبرہ کا اہل ہے۔جو اس لیول اور حد تک نہیں پہنچتا وہ سبھی مسمار کر دئےے جانے چاہیں۔ اور آج کل کے پر فتن دور میں ایسے بورڈ کا تشکیل پانا انتہائی ضروری ہے ورنہ کوئی خطہ زمیں ایسا نہیں رہے گاجہاں کوئی جعلی اور فرضی مزار نہ بنیں، وہاں میلے نہ لگیں اور خرافات نہ ہوں۔ مزید دین سے دوری اور بے راہ روی سے بچنے کےلئے یہ انتہائی ضروری ہے۔

            ولائت، مزار و مقبرہ کا معیار یہ ہونا چاہےے، دیکھا جائے کہ کیا کوئی سر تاج اولیاءحضرت سیدنا داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ جیسا ہے؟ کیا کوئی سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ جیسا ہے؟ کیا کوئی قطب اولیاءحضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ جیسا ، حضرت نظام الدین اولیائؒ جیسا،حضرت مجدد الف ثانیؒ جیسا ہے؟ کیا کوئی حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے رتبہ کو پہنچتا ہے؟کیا کوئی حضور غوث العالمین حضرت بہا


الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے مرتبہ کمال تک پہنچتا ہے؟میں نے آستانوں کی ہسٹری میں پڑھا کہ حضرت بہا
الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کا آستانہ ایسا آستانہ تھا جو برصغیر میں فروغ دین، علم و حکمت بانٹنے کا مرکز تھا۔حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ بھی یہاں سے فیض پاتے رہے ہیں، پورے برصغیر سے اولیاءو صالحین،دہلی سے حضرت قطب الدینؒ و دیگر بھی یہاں سے فیض لینے آیا کرتے تھے۔یہاں سے قافلے دین کی دعوت لے کر برصغیر کے طول و عرض میں جایا کرتے ہیں۔ ان کی باقاعدہ علمی و عملی تربیت کا خاص اہتمام تھاحتیٰ کہ انہیں حربی و عسکری تربیت بھی دی جاتی تھی کہ اگر راستے میں تمہارے قافلے پر کوئی گروہ حملہ آوار ہوتا ہے تو ان سے لڑنا کس طرح ہے؟ اپنا دفاع کس طرح کرنا ہے؟آج کرہ ارضی پر کوئی ایسا آستانہ ہے جو ایسی کوئی مثال پیش کرے؟

             آج آستانوں سے فروغ دین کے قافلے روانہ کرنا تو دور کی بات رہی ، اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کی اصلاح کےلئے قافلے کوئی نہیں بھیج رہا۔ہاں لنگر سمیٹنے اور نذرانے اکٹھے کرنے کی کمیٹیاں ضرور ترتیب دی گئی ہیں جو ماہوار، ششماہی اور سالانہ کی بنیاد پر پیرانے اکٹھے کرنے جاتے ہیں۔ہر طرف صرف کھانے کا چکر ہے۔ مال اکٹھے کر لو، نذرانے سمیٹ لو، مریدین و متوسلین کی تعداد بڑھا لواور فخر کرتے پھیرو کہ میرے اتنے مریدین ہیں، میرے اتنے چاہنے والے ہیں، میرے اتنے عقیدت مند ہیں۔ اور پھر سیاسی میدان میں ان کی بولیاں لگا دو،جو سیاستدان زیادہ فوائددیں ان کے ساتھ ہو کر مریدین کے ووٹ مانگنے چل پڑو یا خود سیاسی بن کر ان کا فائدہ اٹھا لو۔ آج کل آستانوں اور گدیوں کا استعمال دین کے لئے نہیں صرف مالی و سیاسی مفادات سمیٹنے کےلئے ہو رہا ہے۔

عارف کا ٹھکانہ نہیں وہ خطہ کہ جس میں

پیدا کُلّہِ فقر سے ہو طُرّہ ءدستار

باقی کُلّہِ فقر سے تھا ولولہ ءحق

طُرّوں نے چڑھایا نشہ ءخدمت ِ سرکار

            حکیم الامت ؒ فرماتے ہیں کہ جب علماء، پیرو مشائخ نے کُلّہِ فقر کو چھوڑ کر لمبے لمبے طُرّے اور دستار باندھنا شروع کےے اس وقت سے فقر نابود ہو کر رہ گیا۔فقر دوسروں کی خدمت کا درس دیتی تھی اور طُرّہ ءدستاروالوں نے مخدوم بن کر اپنی خدمت کادرس دینا شروع کر دیا۔ فقر میں خوف خدا تھا اور طُرّہ ءدستار والوں نے خود خدا بن کر لوگوں پر اپنا خوف طاری کر دیا کہ اگر پیر ناراض ہو گیا، پیر کی خدمت نہ ہوئی تو پتہ نہیں کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ کُلّہِ فقر نے ولولہ ءحق زندہ رکھا ، حق کا بول بالا کیا،اور طُرّہ ءدستار والوں نے اپنی انا کا۔ اصل میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ جو دین کی چار کتابیں پڑھ جاتا ہے وہ بجائے خادم بن کر دین اور سماج کی خدمت کرنے کے خود مخدوم بن کے بیٹھ جاتا ہے اور اپنے نام کے ساتھ کیا کیا القاب سجا لیتا ہے۔حضرت علامہ مولانا قاری سے کم تو ایک ٹکے کا مولوی نہیں رکتا جو دین کو بہت معمولی سا جانتا ہے۔ جس نے اپنے نام کے ساتھ ایسے اعلیٰ القاب لگا کر مخدوم ، معزز اور محترم بن جانا ہے اس نے خدمت خاک کرنی ہے۔ایسے القابات سے فخرکا پہلو نکلتا فقر کا نہیں۔ جو اپنے نام کے ساتھ ایسے القاب لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے وہ فقر سے بہت دور ہے اور بندے میں جب تک فقر نہ آئے اس میں کبھی ولولہ حق زندہ نہیںہو سکتا۔

            آج کل خانقاہوں اور آستانوںپر ایک اورگمراہ کن دھندہ کی روایت چل پڑی ہے اور وہ دم درود، تعویذ دھاگہ ، کالے اور نوری علم سے لوگوں کے مسائل حل کرنے کا۔انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج چند نام نہاد پیر اور صوفی گھرانوں نے بھی الٹے سےدھے، نفع و نقصان والے تعویذ لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی۔ہر طرح کے کام کرنے والے دےوتا ان کی دوکانوں سے ملتے ہیں۔ حفاظت کرنے والے، ستار ہ بلند رکھنے والے، ہرمیدان میں کامیابی عطا کرنے والے دےوتا گلے ڈال کر رکھنے کو ملتے ہیں کہ یہ آپ کی ہر بلا سے حفاظت کرتے ہیں۔ خاص طور پر دےہی علاقوں میں یہ کام بہت عروج پر ہے۔ کم فہم ملاں حضرات اور کم آمدن پیر و صوفی گھرانوں کا ذریعہ معاش بھی اسی عمل سے وابستہ ہے۔بعض پیر اور صوفی تو دم درود ، تعویذ دھندہ کے حوالے سے بڑی شہرت رکھتے ہیںکہ فلاں کا دم بہت چلتا ہے، فلاں کا تعویذ بہت اثر دکھاتا ہے۔لوگ بڑی دور داراز سے ان کے پاس دم درود اور تعویذ دھاگہ کے لئے آتے ہیں۔ یہ آج کل کے پیروں اور صوفیوں کا ایک پیشہ و کاروبار بن گیاہے۔ آج کل آستانوں پہ لوگ صرف مریض بن کر شفایاب ہونے ، مرادیں اور حاجتیں پوری کروانے کےلئے آتے ہیں، دین سیکھنے کے طلبگار بن کر نہیں۔

            یہ طبقہ اپنے باطل عمل کو حق ثابت کرنے کے لئے دلیل دیتے ہیں کہ یہ عمل حضور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ آپ ﷺ نے دم فرمایا اور لوگ شفایاب ہوئے۔ بیشک ہوئے اور اس کے چند ایک واقعات ہیں، آپ ﷺ نے اس عمل کو شب و روز کا معمول نہیں بنایا۔ آپ ﷺ سے مستقل یہ روایت نہیں چلی کہ آپ ﷺ صبح شام دم ہی کرتے رہے ہوں۔کوئی ایک روایت ثابت کریں کہ دور داراز سے کوئی صحابی آپ ﷺ کے پاس صرف دم کروانے ، مراد یا حاجت پوری کروانے کی غرض سے آیا ہو اور کروا کے واپس چلا گیا ہو۔یا آپ ﷺ نے کسی کو کوئی رکھ، تعویذ دھاگہ بنا کے دیا ہو کہ اسے گلے ڈال لو تمہاری حفاظت کرے گا۔ کوئی ایک بھی ایسی روایت نہیں ملے گی۔ لیکن اس کے برعکس ایسی کئی روایات ہیں جس میں آپ ﷺ نے تعویذ دھاگہ گلے ، کلائی یا بازو وغیرہ باندھنا سخت ناپسند اور منع فرمایا ہے۔مگر آج یہ سب کچھ شاہوں کے آستانوں اور دین کے رہبروں سے ہو کر رہاہے۔

            کامل اولیاءعظام، خدا کے نیک اور صالح بندوں کا کبھی یہ وطیرہ نہیں رہا۔ کسی بزرگ ہستی نے مستقل یہ پیشہ اختیار نہیں کیا۔ اسے اپنا کاروبار اور حصول آمدن کا ذریعہ نہیں بنایا۔ کامل بزرگان ِ دین دم درود اور تعویذ دھاگے میں مشہور نہیں تھے بلکہ وہ دین سیکھنے اور سیکھانے میں مشہور تھے۔ وہ جس طرف نگاہ اٹھاتے تھے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں کافر لوگ کلمہ پڑھنے لگتے تھے اور حق حق کی صدائیں بلند کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ دور داراز علاقوں سے حضور سید عالم ﷺ کے پاس صرف دین سیکھنے کی غرض سے آیا کرتے تھے اور آپ ﷺ عملی طور پر ان کی دینی تربیت فر ماتے تھے۔ ہمارے اسلاف خود باعمل ہو کر لوگوں سے عمل کروانے میں ماہر تھے۔وہ لوگوں کو تقویٰ و پرہیزگاری کا درس دیتے تھے بے عملی کا نہیں۔ آج ہر طرف بے عملی کا درس ہے جسے سن سن کر ہمارا مجموعی معاشرہ عمل گریز ہوتا چلا جا رہا ہے۔

            وہ آستانے جو روحانی و قلبی سکون کا ذریعہ تھے، دور جدید کے سجادہ نشینوں نے ان آستانوں کو سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ روحانی آستانوں سے علمی اور فکری و تخلیقی کام ختم ہوکر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے امت گمراہی و ضلالت کے دلدل پھنس چکی ہے، امت کو نفرتوںاور عداوتوں کے سیلاب نے گھیر رکھا ہے۔ آج کل کے پیر خانقاہوں اور آستانوںکو صرف ذاتی، مالی و سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔آستانوں کو استعمال کرکے سیاست میں بڑے عہدے اور مالی مفادات تو حاصل کئے جاسکتے ہیں، لیکن سکون قلب حاصل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دین کا پرچار ممکن ہے۔ فقیروں کو شاہوں سے کیا کام؟پیروں کو مال اورمنصب سے کیا غرض؟ ہمارے بزرگ اولیاءتو مال و اسباب بانٹنے والے تھے ، سمیٹنے اور اکٹھا کرنے والے نہیں تھے۔وہ تو ایک وقت کی کھا کر اگلے وقت کے لئے خدا پر بھروسہ رکھتے تھے۔ان کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ

تخت سکندری پر وہ تھوکتے نہیں ہیں

بستر لگا ہوا ہے جن کا تیری گلی میں

            قیامت کے دن خدا کے ہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس کے ساتھ کتنے ہیں۔ وہاں صرف عمل دیکھا جائے گا کہ کس کے کتنے اعمال ہیں؟ کس کی کتنی دینی خدمات ہیں؟کس نے کتنی دین کی فکر اور جدوجہد کی ہے؟ اسے تو باہتر (72) بھی قبول ہیں مگر ہوں حق پے ڈٹے ہوئے۔ ہمارے تو وہ اسلاف ہیں جن کے لاشے بھی کلمہ دیتے تھے، جن کے جنازے دیکھ کر بد دین لوگ بھی کلمہ پڑھ لیا کرتے تھے اور آج؟ آج تو پیروں سے اپنے کلمہ گو مرید نہیں سدھر پا رہے، یہ غیروں کو کلمہ خاک دیں گے۔ آج ہمارے زندہ لاشے لوگوں کے ایمان کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔عطائے رسول ، معین الاسلام حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کی تو اک نظر نے نوے لاکھ ہند


ں کو کلمہ پڑھا دیاتھا، ان کے جلال نے تو مندر کے بے جان پتھر کے بتوں کو خدمت پر معمور کر دیا تھا۔حضرت سیدنا داتا علی ہجویریؒ ،حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں اتنی قوت تھی کہ جس طرف اٹھتی تھی ان کی تقدیر بدل کے رکھ دےتی تھی۔ آندھیوں اور سمندری طوفانوں کے رخ موڑ دیا کرتی تھی۔ان کی تجلیات کا یہ عالم تھا کہ پورا ہند
ستان لرز جاتا تھا۔ آج گلی گلی ، نگر نگر ایک سے بڑھ کر دوسرے خواجہ خواجگان، غوث، قطب، ابدال بےٹھے ہیں مگر ان سے غیر مسلم، ہند
اور سکھ تو کیا اپنے عقیدت مند نہیں سدھر پا رہے اور خطابات اپنے ناموں کے ساتھ حضور خواجہ اجمیر اور غوث الوراءحضور غوث اعظم سے بھی بڑے بڑے القابات لکھتے ہیں۔آج ہمارا المیہ ہے کہ ہمارا کردار وہ چمک نہیں رکھتا تو گفتار کے اندر روشنی کہاں سے آئے۔ایک مجدد الف ثانی ؒ تھا اس نے پورے ہندوستان کی کایا پلٹ کے رکھ دی، آج ہر جماعت، تنظیم، گروہ کا قائد مجدد ہے مگر قوم کی کایا نہیں پلٹ رہی، قوم تبدیل نہیں ہو رہی، قوم میں شعور اور جذبہ بیدار نہیں ہو رہا۔ ایک غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے پورے زمانے کو روشنی دی اور دنیا کی تقدیر بدل کے رکھ دی ۔ آپ کی نظر کا یہ عالم تھا کہ بیک وقت پوری کائنات کو اےسے دےکھ رہے تھے جےسے ہاتھ کی ہتھیلی پہ سرسوں کا دانہ ہو۔ کرہ ارض کا کوئی کونہ ان کی نظر کے دائرہ سے اوجھل نہ تھا۔آج گلی گلی، نگر نگر ہرآستانے کا گدی نشین وقت کا غوث ہیں مگر قوم کی تقدیر کیوں نہیں بدل رہی، اس کا مرید اس کی آنکھوں سے اوجھل ہے؟آج تک سنتے آئے ہیں کہ دنیا میں صرف اڈھائی قلندر ہوئے مگر آج تو گلی گلی قلندر بیٹھے ہیں مگر قوم نہیں سدھر پا رہی۔

             آج وہ دور آ پہنچا کہ عظیم آستانوں کے حاضر مکین، سجادہ نشین دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ وہ اپنے بزرگوں کی سی طریقت،واضح قطع، ظاہری شکل و صورت تک بھی کھو بیٹھے ہیں۔آج ان کا واضح قطع، شکل و صورت اہل مغرب سے ملتی دیکھائی دیتی ہے، مغربی تقلید نے ایسے آستانوں کو بھی گھیر لیا ہے تو باقی سماج کی بات کیا کرنا۔ایک نہیں آج تقریباً سب آستانوں کا ےہی حال ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی پیروی چھوڑ چکے ہوئے ہیں اور اس کی جگہ مغربی تقلیدنے لے لی ہے اور اغیار کے کلچر کو فروغ دیا جا رہے ہے۔جب آج کا پیر مغرب کا مقلد ہے توپھر عقیدت مند تو اس سے چار ہاتھ آگے ہو ں گے۔آج کثیر آستانوں کے وارثین کے چہروں پر ایک ظاہری سنت رسول ﷺ اور اپنے اسلاف کی پہچان دیکھنے کو نہیں ملتی تو خفیہ و باطنی سنت، سیرت و اطوار کا کیا عالم ہوگا؟

            وہ کیا پیر ہوئے جو اپنے مریدین سے پانچ وقت نماز کی پابندی نہ کروا سکیں، اسلامی اخلاق کی پاسداری نہ کروا سکیں۔ پیر کا یہ مقصد نہیں کہ وہ بد عمل بھیڑوں کی جماعت اٹھی کر لے اور میدان میں کھلا چھوڑ دے کہ جہاں چاہیں چرتی پھیریں۔ نہ نماز کی پابندی، نہ روزہ کی پرواہ، نہ اسلامی اخلاقیات کی پاسداری، نہ اسلامی اخوت کا لحاظ۔یہ چیزیں ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں اگر یہ نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق تو نہ رہا۔

پیری مریدی کا اصل مقصد:

            پیر کا مقصد تو یہ ہے وہ شیروں کی جماعت اکٹھی کر رکھے اور امت کی ضرورت کے مطابق ان کا استعمال کرے۔امت کو جہاں جس مقصد کےلئے افرادی قوت کی ضرورت ہو مہیا کریں۔جہاد کےلئے مجاہد چاہیں مہیا کریں، دفاع کےلئے محافظ چاہیں مہیا کریں، تبلیغ کےلئے مبلغ چاہیں مہیا کریں، بیداری و اصلاح اور رشد و ہدایت کےلئے اصلاح کار چاہیے تو مہیا کریں۔یہ مقصد ہے بیعت اور پیر کا۔بلکہ حکیم الامت، دانائے راز حضرت اقبال علیہ الرحمہ نے تو ایک اور بات کہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست

زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی

جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

            ’ ’ اے شخص! تو نے مجھ سے ملت کے رہبر و پیشوا، ملت کے امام کی خوبیوں کی بابت پوچھا ہے،میری دعا ہے کہ خدا تجھے بھی میری طرح صاحب اسرار کر دے، بھیدوں اور رازوں کا جاننے والا بنا دے۔ تیرے دور کا سچا راہبر، پیر و امام وہی ہو سکتا ہے جو تیرے دل میں عہد ِ حاضر کی تمام قباحتوں کےلئے نفرت پیدا کر دے۔ وہ امام برحق یہ خصوصیت بھی رکھتا ہوکہ تجھے موت کے بعد کی حقیقت کا پتہ دے اور محبوب حقیقی کا چہرہ دکھا کر تیرے اندر شہادت کی تڑپ پیدا کرے اور اس کی یاد میں تیرا جینا دشوار کر دے اور تیرے لیے زندگی عذاب بنادے۔ تو پہلے پانچ پڑتا تھا تو بیعت مرشد کے بعد آٹھ کی پابندی کرنی پڑھ جائے۔ وہ مرشد کیا ہوا جو اپنے مریدسے پانچ وقت فرائض کی بھی پابندی نہ کروا سکے۔تیرے امام برحق کے اندر یہ خوبی بھی ہونی چاہےے کہ تجھے تیرے نقصان ،ملت کے ساتھ ہونے والی اونچ نیچ ، ظلم و زیادتی کا احساس دلاکر، ملت کی فکر پیدا کر کے تیرے لہو کو گرمادے، تیرے جوش اور ولولوں کو ابھار دے، اور تیری زندگی کو تلوار کی طرح تیز کر دے جو ہر باطل کو کاٹ کے رکھ دے۔ اگر کوئی ایسا شخص جو تجھے سلاطین، بادشاہوں، وڈیروں اور سیاستدانوں کا پجاری بنائے اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرے تو وہ تم اور تمہاری قوم کے لئے فتنہ کے سواءاور کچھ نہیں ہے۔ ایسے امام و پیر سے نہ صرف خود بچو بلکہ قوم کو بھی بچا


۔

            آج کے بے عمل پیر بے عملیت کا درس دے رہے ہیں۔ خود اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ پیر کے ہاتھ بیعت کر لو تمہاری جنت پکی، ہم جانے اور جنت جانے ، ہم چھوڑا لیں گے ، ہم ہاتھ پکڑ کے ساتھ جنت لے جائیں گے۔سب اپنا حلقہ ارادت بڑھانے کے چکر میں ہیں۔ اتنے بڑے بڑے نامور، جلیل القدر، عالی مرتبت ولی اللہ، غوث، قطب ، ابدال گذرے ہیں کسی نے بھی اس طرح کے طرےقے نہیں اپنائے اور لوگوں کو اپنے مرید ہونے کی دعوتیں نہیں دیں کہ میری بیعت کر لو تو جنت مل جائے گی۔ آج لوگ سمجھتے ہیں کسی پیر کی بیعت کر لی، پیر کی محفل میں آئے گئے تو جنت مل گئی۔ پیر وہ نہیں ہوتا جو تمہیں پہلے عمل سے بھی بیزار کردے بلکہ اصل اور حقیقی پیر وہ ہے جو تیرے لےے زندگی اور بھی اجیرن، مشکل و دشوار کر دے کہ پہلے پانچ نمازیں پڑھتاتھا تو اب بیعت کے بعد آٹھ کی پابندی کر، اور اسلامی احکامات و اصول و ضوابط پر لوہے کی طرح جما دے کہ کبھی نہ اکھڑنے پائے۔وہ کیا پیر ہوئے جو اپنے عقیدت مندوں سے اضافی تو درکنار پانچ فرض نمازیں بھی پوری نہ کروا سکیں؟ وہ کیا پیر ہوئے جو معاشرتی اخوت، ہمدردی و رواداری تو دور کی بات ایک گھر کے سگے بھائےوں میں اخوت و ہمدردی پیدا نہ کر سکیں؟اگر آج معاشرہ میں گھر گھر اخوت، بھائی چارہ اور خاندانی ہمدردی ہوتی تو اس کی چمک اور مہک اجتماعی معاشرہ میں نظر آتی۔

            آج کل علماءو پیروں کی اولاد کے ہاتھ پا


ں چومے جاتے ہیںچاہے وہ جتنی بد عمل، غافل و سرکش ہو، چاہے جتنی اعمال وکردار اور اخلاقیات سے دور ہو۔ اور حد تو یہ ہے کہ پیروں کے گھر پیدائشی بچے کو ولی، قطب ، غوث تصور کیا جاتا ہے۔یہ منصب ایسے ہی کسی کی جھولی میں نہیں ڈال دیا جاتا ہے، جو اس منصب پر پہنچے وہ اپنے کردار اور عمل کے زور سے پہنچے ہیں۔ جسے کسی نبی کا بیٹا پیدائشی نبی نہیں ہو سکتا اسی طرح ولی کا بیٹا بھی پیدائشی ولی نہیں ہو سکتا جب تک اپنی محنت، کردار اور عمل سے ولی نہیں بن جاتا۔ ہمارے سب معاشرتی اسلوب ہی غلط ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں اخلاق عالیہ، شریف النفس، پختہ و بلند کردار، تقویٰ و پرہیزگاری،طہارت و راست بازی، خدا ترسی و فیاضی کو کوئی عزت و تعظیم کا م
جب نہیں سمجھتا۔ سب کسی کی عزت و تعظیم کے لئے پہلے نسبت دےکھتے ہیںکہ کس پیر گھرانے سے ہے؟ کس دربار و خانقاہ سے ہے؟کس اعلیٰ افسر و عہدیدار سے تعلق رکھتا ہے؟کتنا امیر اور مالدار ہے؟لوگوں میں اس کا اثر اور دبدبہ کتنا ہے؟ اعلیٰ انسانی اوصاف و کردار سے قطع نظر ہو کر بدمعاش ، شرابی ، زانی، جوئے باز ، کرپٹ، فاسق و فاجر، انسان نما درندے کو محض اس لےے عزت و احترام کا مستحق قرار دےناکہ وہ رےشم و حرےر مےں ملبوس ہے، اچھی نسبت رکھتا ہے، کثےر مقدار مےںاس کے پاس مال و زر ہے ، یہ کام تو عقل کے اندھوں اور انسان نما جانوروں ہی سے ہو سکتا ہے۔

            سوال یہ ہے کہ اگر عزت و تعظیم اور قدر و منزلت نسبت کی وجہ سے کرنی چاہے تو خدا نے نبی کے بےٹے کو کیوں غرق کیا؟کیا اسے ایک نبی سے بیٹے کی نسبت نہیں تھی؟ خدا نے اس کی اس نسبت کو کیوں نہ دیکھا؟خدا نے نبی کی بیوی کو کیوں تباہ کیا؟کیا اسے ایک نبی سے بیوی کی نسبت نہیں تھی؟ خدا نے نبی کے عزیز و اقارب پر کیوں لعنت کی؟کیا وہ نبی کریم ﷺ کے قریبی اور چچا نہیں تھے۔ بلکہ یہاںتو حقیقت یہ ہے کہ رب ذوالجلال نے ایک گستاخ اور نافرمان و بد عمل حقیقی بیٹے کو نبی کی آل ہی تسلیم نہیں کیا۔ حضرت سیدنا نوح علیہ السلام نے عرض کی ۔

اور نوح نے اپنے رب کو پکاراکہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔فرمایا اے نوح! وہ ہرگز تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں۔سو مجھ سے ایسا سوال مت کرو جس کا تجھے علم نہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں جاہلوں میں نہ ہو جا


۔“ (سورہ ہود 11 : 45-46)

            اللہ کریم نے یہاں قرآن مقدس میں واشگاف الفاظ میں یہ نوٹس دے دیا کہ کوئی بھی غیر صالح عمل والا نہ کسی نبی کی آل ہو سکتا ہے نہ کسی ولی کی چاہے وہ ان کی حقیقی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کریم نے اپنے نبی پر بھی واضح کر دیا کہ تم غیر صالح شخص کو اپنی آل کہہ کر جاہل نہ بنو۔ یہاں صاف صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ غیر صالح کو اپنی آل کہنا جاہلوں کا کام ہے۔ اور یہی جہالت آج ہمارے معاشرے میں ہر سو پھیلی ہوئی ہے۔آج آپ جس خانقاہ، جس آستانہ پر چلے جائیں آپ کو مسند پر بیٹھے لوگ غیر صالح ہی نظر آئیں گے جن کی سیرت، جن کا کردار، جن کا واضح قطع، جن کا طرز عمل اپنے کامل اکابرین سے قطعاً نہیں ملتا ہو گا جن کے نام کا وہ کھا رہے ہیں۔یہ جہالت نہیں تو کیا ہے؟ اقبال علیہ الرحمہ نے بجا فرمایا کہ آج عقابوں کے نشیمن زاغوں کے تصرف میں ہیں۔آج کل دنیا کا نظام کردار و عمل سے نہیں صرف نسبت کے بل بوتے پر چل رہا ہے۔ آج آستانوں کا یہ حال ہے کہ پیر کا بیٹا ہے بیٹھا دو مسند پر، دے دو خلافت و جانشینی، افعال و کردار کیسا ہے؟ ایساکچھ نہ پوچھو اور اپنی زبان بند رکھو۔ یہ نیری جہالت ہے اور قرآن کی منشوعات کے سراسر منافی طرز عمل ہے۔

            اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے ہاں نسبت نہیں دیکھی جاتی، اچھے اعمال و کردار دیکھے جاتے ہیں، اعمال صالح دیکھے جاتے ہیں، اعلیٰ اخلاق و اطوار اور تقویٰ و پرہیز گار ی دیکھی جاتی ہے۔ وہاں کسی سے تعلق و نسبت نہیں بلکہ اطاعت و فرمانبرداری کا معیار دیکھا جاتا ہے اور پھر اسے پرکھا بھی جاتا ہے کہ کتنا ثابت قدم رہتا ہے؟ کتنا اطاعت کے معیار پر قائم رہتا ہے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج ہم نسبتیں دیکھتے ہیں اچھے اعمال و کردار نہیں۔ہم اطاعت و فرنبرداری کی طرف نہیں جاتے بلکہ دارین میں نجات کےلئے نسبتیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ہم اعلیٰ انسانی اخلاق اور پختہ و بلند کردار سے دنیا میں سرفراز و کامران نہیں ہونا چاہتے بلکہ ہم دارین میں سرفر ازی و کامرانی کےلئے سفارش ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں، دنیا میں بااثر تعلق داروں پر بھروسہ ہے اور آخرت میں حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پرکہ وہ اپنی شفاعت و سفارش سے نجات دلوا دیں گے۔ ہم کامیابی کیلئے خود اپنی محنت پر یقین نہیں رکھتے ےہی آج ہماری دنیا میں بربادی، خواری و ناداری اور ذلت و رسوائی کا سبب ہے۔

اللہ لوک اور اللہ والے کون؟

            آج معاشرہ پاگل، ذہنی طور پر مفلوج،مجنوں، مست ملنگ، بھگنی، نشی و چرسی، پھٹے پرانے کپڑے ، بکھیرے بال، ننگے تن گھومنے والوں کو مجذوب اور اللہ لوک ، اللہ والے کہتا ہے۔ جنہیں اپنا ہوش نہیں، جو اپنی پہچان، اپنی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا کیا وہ اللہ کو پہچانتا ہے؟ جو بے ہوش ہو، بے عقل ہو، کم فہم ہو، جسے نہ آگے کا پتہ ہو نہ پیچھے کا، لوگ اسے اللہ لوک کہہ کے اس کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کر دےتے ہیں، ان کا تعلق اللہ رب العالمین سے جوڑ دےتے ہیں۔ آخر کس بنا ءپر اےسے لوگوں کا تعلق اللہ کریم سے جوڑا جاتا ہے؟ کیا معاذ اللہ ! اللہ ان جیسا ہے ؟ یا یہ اللہ سے کوئی تعلق نسبتی رکھتے ہیں۔ اگر اےسے لوگ اللہ لوک ہیں، اللہ والے ہیں تو عقل مند، دانا اور باشعور کس کے ہیں؟ کیا معاشرہ بتا سکتا ہے؟

            لمبے لمبے بال رکھنا، انگلیوں میں بے تہاشا انگوٹھیاں پہننا ، کلائیوں میں کڑے ڈالنا، جنگلوں میں نکل کر ننگے بدن اللہ اللہ کرنا اور نماز و طہارت سے روگردانی کرنا، روزہ سے عاری کہ اس سے ان کے چرس و بھگن کا نشہ ٹوٹتا ہے۔ شراب، جواء، ہیروین و چرس کے کش لگانا، بھگن کے پیالے بھر بھر پینا یہ ولائت کی نشانیاں نہیں ہیں۔یہ حقیقی دین فطرت کا مذاق ہے اور شریعت و طرےقت کو پامال کرنے والے گھٹیا کردار ہیں۔ ان کا نعرہ ہے یا علی ہم تےرے ہیں عمل کےلئے اور بتھیرے ہیں۔ شراب، بھگن، چرچ، ہیروئن پےنا ان کا شب و روز کا مشغلہ اور نعرہ ہم علی کے ملنگ۔ جانے یا علی۔ علی دے متوالے پی کے بھگن دے پیالے کہندے حشر نوں ہے بخشانا یا علی۔ کیا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اےسے ملنگوں کو گلے سے لگائےں گے ؟ یہ ان کی بھول ہے ، ایک مہمل فریب اور زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ۔

            میں سمجھتا ہوں اےسے لوگوں کو اللہ لوک کہنا اللہ رب العزت کی توہین ہے۔ معاشرہ اپنے اطوار بدلے اور کسی بے سدھ کی نسبت اللہ سے نہ جوڑے۔ معاشرہ اےسے صفت لوگوں کو کم فہم ، کم عقل جاہل کہہ سکتا ہے اللہ لوک نہیں۔ معاشرہ کو شعور ہی نہیں اللہ لوک کیا ہوتا ہے اور اللہ والے کی پہچان کیا ہے؟ اللہ لوک وہ ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ سے ملا دیں، بھٹکے ہوئے انسان کا ناطہ اللہ سے اےسا جوڑ دیں جو کبھی نہ ٹوٹنے والا ہو۔آج کے معاشرہ کی آنکھ نے اللہ لوک دےکھے ہی نہیں۔ بلکہ صدیاں بیت گئیں کوئی حقیقی اللہ والا نہیں آیا دنیا میں، نام نہاد دعویدار تو بہت ہیں۔شائد کہ اب اللہ والے بھی روٹھ گئے ہیں ہمارے مجموعی کردار و افعال، ہمارے اطوار و گفتار دےکھ کر۔

             صدیوں پہلے ایک اللہ لوک نے قدم رکھا تھا برصغیر کی دھرتی پے، جو روٹی میسر نہ آنے پر سوکھی گھاس کھاتا تھا اور دریا کا پانی پی کے گذر بسر کرتا تھا مگر اس اللہ لوک نے ایک وقت کی روٹی کےلئے بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ پھر زمانے کی آنکھ نے دےکھا کہ اس ایک اللہ لوک نے پورے برصغیر کی تارےخ بدل کے رکھ دی تھی۔ آج برصغیر ہدایت و اےمان کے نور سے روشن ہے تو اسی ایک کے دم سے کےونکہ اس خطہ عرضی میں نور ہدایت کا بیج بونے والا وہ پہلا شخص تھا۔ آج دنیا جسے حضور سیدی حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔

گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا

ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما

            ان کے بعد اگر تارےخ انسانی نے کوئی اللہ والا دےکھا تو وہ حضور غوث الاعظم شےخ عبد القادر جیلانی ؒ تھے، حضور خواجہ سلطان الہند، معین الاسلام حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ تھے، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ تھے، شےخ احمد سرہندی ؒ تھے، حضرت خواجہ مجدد الف ثانیؒ تھے، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ تھے۔ حضور سیدی و مرشدی و مولا


·حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ تھے، حضرت بہاول الدین زکریا ملتانیؒ تھے۔امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں محدث بریلوی ؒ تھے جن کی نظروں میں فیض تھا ، وہ جس طرف اٹھ جاتی تھیں ان کی تقدیر بدل کے رکھ دتیں تھیں۔ یہ سب حقیقی اللہ والے تھے جن پرخود خدا کو بھی ناز ہے۔ یہ وقت کے غوث اور مجد د تھے۔ آج کوئی ایسا ہے جو ان بزرگوں کی یادیں تازہ کرے؟

( یہ ایک دوسرے مضمون میں نیا پراگراف شامل کیا تھا ایک نظر فرما لیں)

            آج کل دین کے وارث ، دین ، سماج اور معاشرت کی حفاظت و نگرانی (جو ان کی حقیقی ذمہ داری ہے، جس کے لئے انہیں دین کاوارث بنایا گیا) کو چھوڑ کراس کے محافظ بنناچاہتے ہیں جس کی حفاظت خدائے ذوالجلال نے خود اپنے ذمہ کرم پر لی ہے اور انسانیت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی یعنی ختم رسالت و نبوت اور قرآن کریم کی حفاظت۔ فرمایا

ہم نے یہ آخری رسول اور آخری کتاب اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

            ختم نبوت کا محافظ خود خدا ہے۔ ختم نبوت اور ختم کتاب یعنی قرآن کریم کی حفاظت کے معاملہ میں اس نے کسی پر بھروسہ نہیں کیا اور ان کی حفاظت کا معاملہ خود اپنے دست قدرت میں رکھا۔ جب خدا نے حضور ﷺ پر نبوت و رسالت کا دروازہ ہی بند کر دیا ہے ، اب جب خدا کی طرف سے کوئی نیا دعویدار آ ہی نہیں سکتا ہے، اور جو ایسا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ، کذاب اور واجب القتل ہے۔ کھلا اور واضح قانون ہے اور اس میں دوسری کوئی رائے نہیں ہے تو الٹی سمت بہنے والے پہرہ داروں کی سمجھ نہیں آتی ہے۔ آج کل کے علماءکو یہ جنون چڑھا ہے شائد کہ یہ خدا کی حفاظت کو کمزور سمجھتے ہیں۔محافظ ختم نبوت، دین کے پہرہ دار پتہ نہیں کیا کیا القابات ہیں۔کھلے عام معاشرہ میں تو دین کی پہرہ داری ہوتی کہیں نظر نہیں آتی ہے اور شیطان معاشرہ میں کھلے عام پھیر رہا ہے، اسے کوئی روکنے والے نہیں، اس کے سامنے کوئی بند باندھنے والا نہیں۔ جس کی پہرہ داری ان کو سونپی گئی، جس کا ان کو وارث بنایا گیا اس طرف سے ان کی آنکھیں بند اور تسلی بخش ہیں کہ سب ٹھیک ہے کچھ کرنے کرانے کی ضرورت نہیں۔ کچھ نظر ہی نہیں آتا کہ معاشرہ کیا ہو رہا ہے۔ معاشرہ کس قدر شیطان کے تسلط میں ہے۔ ضلالت و گمراہی ، بے راہ راوی ، بے پردگی، فحاشی و عریانی کس قدر فروغ پا رہی ہے۔کیا کسی نے اس کے سامنے بند باندھا؟ کیا کسی نے اعلیٰ اسلامی اقتدار، اسلامی اصول و روایات، اخلاق و اطوار،سیرت و کردار ، اسلامی معاشرتی پاکیزگی کے پہرہ دار ہونے کا دعویٰ کیا؟ کیا کسی نے اسلامی معاشرہ کو برائیوں سے پاک کرنے کے ٹھیکیداری اپنے سر لی یا اس کا دعویٰ کیا؟ یہ خدا کی ڈیوٹی کو اپنے سر لینا چاہتے ہیں ، کمزور سمجھا ہے ختم نبوت و رسالت کی حفاظت کرنے میں یا یقین نہیں رہا، اور اپنی ڈیوٹی، اپنی ذمہ داری کس کے سر ڈالی ہے کسی کو کچھ پتہ نہیںہے، انہوں نے بس صرف اپنے سر سے اتار پھینکی ہے ۔

            پنجابی کا ایک مشہور مقولہ ہے آگے دوڑ پیچھے چوڑ۔ ان کی اپنی ذمہ داری مجموعی معاشرہ میں چوڑ ہو چکی ہے، اسلامی معاشرہ تباہی و بربادی کے دہانے پر آن پہنچا ہے اور ان کی دوڑ آگے کی طرف ہے۔ کا ش یہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے دادا حضور حضرت سیدنا عبد المطلب کے عمل سے ہی کچھ سبق سیکھ لیتے، اپنی ذمہ داری نبھاتے اور خدا کی ذمہ داری اپنے سر نہ لیتے۔ابرعہ کا لشکر جب بیت اللہ شریف پر حملہ کےلئے مکہ پہنچا تو آپ کے اونٹ اپنے قبضہ میں لے لئے۔ آپ کعبہ کے بچانے کیلئے ان کے مقابل کھڑے نہیں ہوئے بلکہ اپنے اونٹوں کی بازیابی کےلئے ابرعہ تک پہنچے اور اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ابرعہ نے حیرت سے پوچھا ہم کعبہ گرانے آئے ہیں آپ اس کی فکر چھوڑ کر اپنے اونٹوں کی فکر میں ہیں، تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایااونٹوں کا میں وارث ہوں اس لیے مطالبہ کر رہا ہوںاور کعبہ جس کی وراثت ہے، جو کعبے کا مالک ہے وہ اس کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔پھر تاریخ نے دیکھا اور یاد رکھا ابرعہ کے لشکر کا حال۔وہ آج بھی حفاظت کر سکتا ہے۔

             ان کی اپنی ڈیوٹی ، ان کی اپنی ذمہ داری اسلامی حسن معاشرت، اسلامی اخوت و مساوات کو برقرار رکھنے میں زیرو ہے اور خدا کی ذمہ داری کو اپنے سر لینے میں فخر کرتے ہیں۔ خدا کا دین کیا ہے؟ دین حسن معاشرت اور سماجی پاکیزگی کا نام ہے، دین حسن خلق کا نام ہے،دین حسن سلوک ، حسن برتا اخوت و بھائی چارہ ، مساوات و برابری کا نام ہے۔ کیا یہ سب کچھ ہمارے مجموعی معاشرہ میں نظر آتا ہے؟اس میدان عمل میں کہاں کھڑے ہیں دین کے محافظ؟ کہاں کر رہے ہیں دین کی پہرہ داری؟ کہاں نبھا رہے ہیں اپنی وراثت میں ملی ذمہ داری؟

            جس طرح کسی ملک کے سپاہیوں کا کام لوگوں پر نظر رکھنا ہے ، چوری، ڈاکہ، فتنہ و فساد پر قابو پانا ہے۔ اگر سپاہی یہ کام نہ کریں تو ہم کیا کہیں گے کہ یہ چور، ڈاکو، لیٹروں اور فسادیوں سے ملے ہوئے ہیں، جیسا کہ آج ہم سب کہتے ہیں اور پنجابی کا ایک مقولہ سناتے کہ کتی چوراں نال ملی ہوئی اے۔ تم ( علماءپیرو مشائخ ) کون ہو؟ کیا تم رسول اللہ ﷺ کے دین کے سپاہی نہیں ہو؟ کیا تمہارا کام ، تمہاری ذمہ داری لوگوں کے اخلاق و اطوار و کردار پر نظر رکھنا نہیں ہے؟ کیا لوگوں کے معاملات دےکھ کر درست کرنا تمہاری ڈیوٹی نہیں ہیں؟ لوگ جو جی میں آئے کرتے پھریں ، ان کے دلوں میں تمہارا کوئی خوف نہ ہو کہ انہوں نے کیا کہنا ہے ، اور تمہاری بھی زبانیں نہ کھلیں کچھ غلط دیکھ کر یا سن کر تو کیایہ نہیں سمجھا جائے گا کہ تم ملے ہوئے ہو، تم نہیں چاہتے کہ معاشرہ کی اصلاح ہو۔

            اگر معاشرہ کی اصلاح کرنی ہے تو تمہیں معاشرہ کا حریف و مخالف بن کے رہنا پڑے گا ، گھل مل کر نہیں۔لوگوں کے معاملات و کردار پر نظررکھنا ہو گی، جہاں کہیں کچھ غلط دےکھا یا سنا اس پر زور دار ڈانٹ پالنا ہوگی اور اسے اس کی سزا بھی دلوانا ہو گی، فاسق، فاجر و بدکار کا منہ پکڑ کر اسے حق کی طرف موڑنا ہو گا۔ لوگوں کے دلوں میں تمہارا خوف ہونا چاہےے کہ اگر ہماری کوئی بدی ان کی نظر میں آگئی تو یہ چھوڑیں گے نہیں۔ سب کچھ دےکھ کر آنکھیں بند کر لےنے اور چپ سادھ لےنے سے معاشرہ درست نہیں ہو جائے گا۔ملک کےلئے جو کردار، جو ذمہ داری کسی سپاہی یا فوجی کی ہے بالکل وہی کردار اور ذمہ داری ان علماءپیر و مشائخ کی دین کےلئے ہے ۔ سپاہی اور فوجی کا کام دشمن سے لڑنا اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اگر کوئی فوجی دشمن سے مل جائے اور اسے آزادانہ ملک میں آنے جانے اور تخریب کاری کی آزادی دے دےں تو ہم کیا کہیں گے ملک کے غدار؟ اسی طرح غلط معاشرتی رسوم و خرافات دین کی دشمن ہیں اور اگر علماءپیرو مشائخ انہیں معاشرہ میں آزادنہ چھٹی دے دیں تو انہیں کیا کہا جائے گا؟ کیا یہ دین کے غدار نہیں ہوں گے؟ کیا یہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ غداری نہیں ہے جس نے ان کو اپنا وارث بنا کر ذمہ داری سونپی ہے؟

            فوجی و سپاہی کا کام ملکی قوانین کا نفاذ اور ان کے دائرہ کار میں عوام کو نتھ ڈال کے رکھنا ہے۔ تم کسی ملکی قانون کو اعلانیہ توڑ کر تو دےکھو تم تک ملک کی سپاہ پہنچتی ہے یا نہیں۔ مگر ہمارے معاشرہ میں اعلانیہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے قانون کو توڑا اور مذاق بنایا جاتا ہے رسول اللہ ﷺ کی سپاہی کہاں ہیں؟ کن کھڈوں میں اپنے منہ چھپائے بیٹھے ہیںوہ ان تک پہنچتے کیوں نہیں؟سپاہی کا کام افراد معاشرہ کے اکٹھ اور ہجوم کو چاروں طرف سے گھیر کر رکھنا ہے کہ ان پر کوئی باہر سے کوئی دہشتگرد حملہ آور نہ ہو، اور نہ یہ ہجوم کسی ممنوعہ علاقے کی طرف بڑھے۔جب تم کوئی احتجاج کرتے ہوتو دےکھتے نہیں اپنے چاروں طرف پولیس کا گھیرا کہ تمہارے ہجوم میں کوئی دہشتگرد نہ گھسے اور نہ تم کسی ممنوعہ علاقے کی طرف بڑھو۔ مگر افراد معاشرہ کے ہجوم میں باہر سے کتنی غلط روایات اور خرافات داخل ہو رہی ہیںاور افراد معاشرہ ان میں پڑ کر دین کی ممنوعہ حدود سے باہر نکل رہے ہیں تو دین کے سپاہی کہاں سوئے ہیں؟رسول اللہ ﷺ کے سپاہی کہاں مدہوش ہیں؟

            محب وطن سپاہی دشمن کو اپنے ملک دےکھ کر ہتھیار اٹھائے سر پر کفن باندھے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، میدان میں لڑتے ہیں ، مرتے ہیں اور مارتے ہیں، موت کے ڈر سے غاروں میں چھپ نہیں جاتے۔ جبکہ یہ دین کے اور رسول اللہ ﷺ کے سپاہی دین دشمن روایات اور کلچر کو اپنے معاشرہ میں دےکھ کر چپ سادھے اپنے اپنے سرد خانوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ بلکہ انہوں نے تو ان کے لئے اپنے اپنے مزاروں،مقبروں اور خانقاہوںکے دروازے میں بھی کھول دئےے ہیں کہ اور آگےآاور آگے بڑھو ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔یہ غداری کس کے ساتھ ہے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کے سپاہی ہو کر ان کے ساتھ غداری نہیں ہے

No comments:

Post a Comment

Please not enter spam links/website links in the comment box . Strictly forbidden.

Youtube Channel Image
Islamic Media | Malik Kashif Raza Please Subscribe to My YouTube Channel for New Islamic Videos
Subscribe