پیر محمد کرم شاہ کا تعارف
پیر محمد کرم شاہ الازہری
اسمہ گرامی:
پیرکھارا
کوہستان نمک کے دامن میں ایک گاؤں سے جو حضرت پیر محمد کرم شاہ المعروف
"ٹوپی والے" کے فیض کیوجہ سے مرجع خلائق ہے ۔ چونکہ اسی جلیل القدر ہستی
کے ساتھ آپکے خانوادے کی رشتہ داری بھی تھی اس لیےآپ کے جد امجد حضرت پیر امیر شاہ
صاحب نے انہی کی نسبت پر آپکا نام پیر کرم شاہ تجویز کیا۔
پیدائش:
آپکی
پیدائش ۱۲رمضان المبارک ۱۳۳۲ء بمطابق یکم جولائی 1918ءشب دوشنبہ بھیرہ (ضلع
سرگودھا) میں ہوئی
سلسلہ نسب:
آپکا
سلسلہ نسب حضرت غوث العالمین شیخ الاسلام بہاؤالدین ابو محمد زکریا ملتانی سے ملتا
ہے سلسلہ نسب یہ ہے پیر محمد کرم شاہ بن پیرامیر شاہ بن پیر شاہ بن شمس الدین شاہ
بن حضر عبداللہ بن حضرت غوث شاہ شیخ الاسلام حضرت مولانا صدر الدین عارف باللہ
فرزند اکبر شیخ المنیر غوث العالمین شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا الہاشمی الاسدی
الملتانی
کنیت :
آپ
کے بڑے صاحبزادے اور موجودہ سجادہ نشین پیر محمد امین الحسنات کے نام سے آپکی
کنیت، ابوالحسنا ت ہے:
تعلیم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر بھیرہ میں حاصل کی اور ساتھ
ہی اپنے والد محترم کے قائم کردہ مدرسہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں دینی تعلیم کا
آغاز کیا۔
والد محترم نے اپنے فرزند کی تعلیم کے لیے خصوصی انتظامات
فرمائے۔ ابتدا مختلف علوم میں ماہرا ساتذہ کی خدمات بھرہ شریف میں حاصل کی گئیں۔ علاوہ ازیں کئی اصحاب فن یہاں تشریف لا کر آپ کو
پڑھاتے رہے۔
آپ کے والد محترم نے دورہ حدیث کے لیے مولانا نعیم الدین
مراد آبادی کو منتخب فرمایا۔ جن کی آغوش تربیت نے صدف کا کام کیا اور اس قطرہ
نیسیان کو گوھر شہوار بنا دیا۔
قابل ترین اساتذہ کی انتھک محنت اور والد معظم کی خصوصی
توجہ سے آپ کی شخصیت کافی نکھر چکی تھی۔ 1945 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا
امتحان پاس کیا لیکن ابھی وہ منزل نہیں آئی تھی جس ہر والد گرامی محو پرواز دیکھنا
چاہتے تھے۔
اس لیے آپ کو مزید تحصیل علم کے لیے 1951ء میں جامعہ ازھر
(مصر ) بھیج دیا گیا اگرایک طرف آپ کے والد گرامی نے آپ کے لیے قربانیاں دیں اور
تعلیم کے لیے عمدہ سے عمدہ انتظامات فرمائے تو دوسری طرف حضرت ضیاء الامت نے بھی
محنت کا حق ادا کر دیا۔
شاہ صا حب خود فرماتے ہیں:
"میری زندگی میں بہت سی راتیں ایسی آئی ہیں کہ جب میں
نماز عشاء کے بعد مطالعہ میں مصروف ہوتاکتابیں اپنےاسرارورموز میرے سامنے منکشف
کرتی جاتیںَ۔اسی محویت کے عالم میں صبح کے مؤذن کی آواز مجھے رات کی تنگ دامانی کا
احساس دلاتی۔"
حصول علم کا شوق:
حصول
علم کا شوق اور محنت کا یہ جزبہ بیرون ملک جا کر اور زیادہ شدت اختیار کر جاتا ہے
آپ دوران تعلیم اپنی جان سوزی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ پورے چھہ سال کا کورس ساڑھے
تین سال کے عرصہ میں مکمل کر لیتےہیں جامعہ میں تحقیقی سر گر میاں بعض اوقات مختلف
موضوعات پر مناقشہ کی صورت بنتی جس میں صرف اساتذہ ہی حصہ لے سکتے تھےَ۔لیکن پیر
کرم شاہ اپنی ذہانت و قابلیت کی بدولت اساتذہ کے دوش بدوش اس میں حصہ لیتے اور
اکثرآپ کی راۓ کو اہمیت دی جاتی۔
آپ
کے اساتذہ نے ازراہ قدردانی آپ کو مختلف سرٹیفیکیٹ عطا فرمائے۔
صحافت
اورضیائےحرم کا اجرا:
1970ءمیں
اپنی صحافتی زندگی کا آغاز فرمایاَ۔آپ نے ایک ماہنامہ،ضیاءحرم،قوم کی نظر کیا ضیا
ئےحرم نے ہر میدان میں خواہ وہ معاشرتی ہو، مذہبی ہو یا معاشی اس نےاپنا مضبوط موقف
پیش کیا۔
جامعہ محمد غوثیہ کی تشکیل نو:
وطن واپسی پرآپ نے آتے ہی'جامعہ محمدیہ غوثیہ" پر توجہ
کی۔اس جامعہ کی بنیاد اگرچہ آپ کے والد محترم نے 1925ء میں رکھی تھی لیکن خاطرخواہ
انتظام نہ ہو سکا۔آپ نے بھرپور دلچسپی جامعہ کے نصاب اور اس کے نظم ونسق میں
تبدیلیاں کیں اور نۓ سرے سے جامعہ کی تعمیر کی۔
سیاسی سرگرمیاں:
حضور ضیاءالامت نے 1995ء میں جب بی۔اے کا امتحان پاس کیا ان
سالوں میں تحریک پاکستان پورے عروج پر تھی برصغیر پاک وہندکے حالات لمحہ بہ لمحہ
بدل رہے تھے آپکے والد گرامی حضرت پیر کرم شاہ صا حب بھر پور میں انداز تحریکی سرگرمیوں میں شامل ہو چکے تھے آپ
ایک طرف حلقہ مریدین میں تبلیغی دوروں کے زریعے قائداعظم کا پیغام دیہاتی علاقوں
میں رہائش پزیر آبادی تک پہنچارہے تھے مسلم لیگ کی ہائ کمان نے اس جلسہ کے جواب
میں ایک عظیم جلسے کا اہتمام کیا گاندھی کی تقریر کے مندرجات کا جواب دینے کے لیے مسلم
لیگ کی قیادت حضرت پیر کرم شاہ کا انتخاب کیا آپ نے انتہای مدلل اور مؤثر
انداز میں رد کیا سیاست میں آپکی دلچسپی
ان مقاصد کے لیے نہ تھی جن کے لیے آج کے نام نہاد سیاست دانوں کی دلچسپی ہوتی
ہے۔پیر کرم شاہ نے میدان سیاست میں صرٖف اپنی تحریروں سے ہی قوم کی رہنمائی نہ کی
بلکہ بوقت ضرورت انہوں نے اپنی مسند کو چھوڑا اور عملی طور پر میدان میں آۓ۔انہوں نے نہ کوئی
جماعت بنائی نہ کسی عہدے کے امیدوار ہوئے اور نہ جماعتی عہدہ کے لیے الیکشن میں
حصہ لیا۔
عدالتی امور کی انجام دہی:
۱۹۸۱ءمیں۶۳سال کی عمر میں آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج
مقررہوئے اور ۱۶سال فرض کی پاسداری کرتے رہے آپ نے متعدد تاریخی فیصلے کیے جو
عدالتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
انداز بیان:
نہ سعری کی شوخی،نہ جامی کا سوز،نہ غزالی کا ذوق و وجدان،نہ
فاطرالسموات والارض نگاہی،نہ اقبال کی ادائے دلبرانہ اور نہ انداز قلندرانہ،یہ
سراپا نقص اورمدحت سیدالانبیاءعلیہ الطیب التحینہ اثناء میں زبان کھولے تو کیسے؟
وادی ایمن کا یہ نخل بلند ارواس پر ہو شرباء تجلیات کا
جھرمٹ یہ بحر کرم اوراسکی بے پناہ ضیافیاں،یہ مہر عالم افروز اور اسکی نور افشاں
کرنیں یہ مرقع حسن ازل اور اسکی عالمگیر دلربائیاں،فاطرالسموات والارض کا یہ
شاہکار جمیل،جو اپنی شان بندگی میں بے مثل
اور اپنی شان محبوبی میں بے نظیر،جس نے زندگی کو رموززندگی سے آگاہ کر دیا۔جس نے
انسان کو انسانیت خلعت زیبا سے نوازا ایسے محبوب دلربا کی تعریف اور یہ دل باختہ
قلم،اس جمال حقیقی کا بیان اور یہ کج مج زبان،اس پیکر جودوسخا کی ثناءاور یہ شکستہ
دل بڑا کٹھن مرحلہ ہے۔
مندرجہ بالاسطور سے پیرکرم شاہ کا دلنیشین انداز بیان ظاہر
ہوتا ہے۔
پیر صاحب کے ممتاز اساتذہ:
آپ کے اساتذہ میں
سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
1) مولانا
ضیاءالدین سیالوی
2) معین
الدین اجمیری
3) حافظ
جان محمد( سرگودھا)
4) مولانا
حفیظ اللہ(مظفرگڑھ)
تصانیف:
1۔ ضیاءالقرآن
2۔ جمال
القرآن
3۔ ضیاءالنبی
4۔ سنت
خیرالانام
5۔ ماہنامہ
ضیائےحرم
تلامذہ:
1۔ قاضی
محمد ایوب،شیخ الحدیث(جامعہ محمدیہ غوثیہ ابھیرہ)
2۔ محمد سیعدالازہری
3۔ ملک عطا محمد،شیخ
ادب(جامعہ محمدیہ ابھیرہ)
4۔ محمد سعید اسد،مدرس(جامعہ
محمدیہ غوثیہ ابھیرہ)
وفات:
No comments:
Post a Comment
Please not enter spam links/website links in the comment box . Strictly forbidden.