نفس کےغلام
فجر کی آذان ہوئے چند ہی لمحے
بیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اپنے رب کے حضور کھڑے ہو گئے۔ نفس کے غلام لوگ ابھی
تک نیند و غفلت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم دل اور رب میں سے کسی ایک
کا انتخاب کرتے ہیں۔ اللہ کے بندے صرف اللہ کا انتخاب کرتے ہیں اور نفس کے غلام لوگ
اپنے دل کا۔
کچھ ہی دیر میں ساحر کے کمرے
میں موجود گھڑی پر الارم بجنے لگا۔ الارم کی آواز پر اس کی نیند میں خلل پڑا اور پھر
ماتھے پر تیوری آ گئی۔
”بھائی
کب سے الارم بج رہا ہے ، نماز کے لیے اٹھ جائیے ناں“۔ رابعہ نے گھڑی پر سے الارم بند
کرتے ہوئے ساحر کو جھنجھوڑا۔
”اتنی
سردی ہے اور نماز کے لیے پانی بھی ٹھنڈا ہو گا ، پھر کبھی پڑھ لوں گا“۔ رابعہ کی آواز
سے اس کے دل و دماغ میں یہی بات دوڑنے لگی۔
”کل
پڑھ لوں گا“۔ نیند میں ڈوبی آواز سے اس نے نماز سے انکار کیا اور دوسری جانب کروٹ لے
لی۔ آج پھر اس کا نفس اس کے ایمان پر غالب آیا تھا۔
رابعہ یہ سن کر بےیقینی کی
کیفیت میں پڑ گئی۔ روز ہی اسکا یہ جواب آتا تھا مگر کل اسکی کبھی نہ آئی۔ ”بھائی میں
بھی نماز پڑھ چکی ہوں جماعت بھی ہو چکی ہے اب کم از کم آپ گھر پر ہی نماز پڑھ لیں“۔
رابعہ نے اسے سمجھایا مگر اس کے لیے اس وقت صرف نیند ضروری تھی۔
”پلیز
رابعہ تم پڑھ چکی ہو۔۔۔۔۔تو مجھے سو لینے دو ، میں پڑھ لوں گا۔۔۔۔۔جب میرا دل کرے گا
اب جاؤ یہاں سے۔۔۔۔میں کوئی بات نہیں سننا چاہتا“۔ درشت سے بولتے ہوئے اس نے کمبل سر
تک اوڑھ لیا۔
”آپ
کی مرضی ہے بھائی اب میں کیا کہہ سکتی ہوں“۔ افسوس سے رابعہ نے سر ہلایا اور پھر اسے
مزید جگانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ کمرے کی بتی بجھا کر وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے
اپنے کمرے کی طرف آئی۔
🔘-------------------------------------------------------
سورج کی مدھم کرنیں چاروں
اطراف پھیل چکی تھیں۔ اس وقت صبح کے نو بج رہے تھے۔ خنکی ہر سو چھائی تھی۔ ٹھٹھرا دینے
والی ہوا کا سلسلہ جاری تھا۔ ساحر ہاتھ منہ دھو کر ناشتے کی میز پر آیا جہاں ناشتہ
لگ چکا تھا اور سب کرسیوں پر بیٹھے تھے۔
”بھائی
نماز کے لیے کیوں نہیں اٹھے آپ؟“۔ ساحر ابھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ رابعہ نے استفسار
کیا۔ اس کے بولنے کی دیر تھی سب نے ساحر کو دیکھنا شروع کر دیا۔
”بتایا
تو تھا نیند آ رہی تھی ، رات میں جاب سے بارہ بجے آیا تھا ، نیند بھی تو پوری کرنی
تھی ناں“۔ نظریں جھکائے اس نے وجہ بتائی اور پھر کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
”مگر
بھائی یہ کیا بات ہوئی ، دنیاوی کام کے لیے آپ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیں گے؟“۔ رابعہ
نے دوبارہ اس سے پوچھا تو ساحر کے چہرے پر بیزاریت در آئی۔ آنکھوں میں درشت واضح ہوئی۔
”پلیز
رابعہ مجھ سے صبح صبح مت لڑو اور چپ کر کے ناشتہ کرو مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں یہ
میں بہتر جانتا ہوں“۔ اس کے لہجے میں کڑواہٹ واضح تھی۔ اس کی بات پر رابعہ حیرت سے
پلک جھپکے بنا اور لب کھولے اسے دیکھے گئی۔ وہ اس سے لڑ تو نہیں رہی تھی۔ رابعہ نے
تاسف سے سر جھٹکا۔
🔘-------------------------------------------------------
”نمرہ کہاں جا رہی ہو؟“۔ نمرہ کو اتنا سجا سنوار دیکھ کر عروج بیگم نے حیرانی سے پوچھا۔ روز ہی ان کی بیٹی کہیں نہ کہیں چلی جایا کرتی تھی۔
”مومنہ
آئی ہے باہر ، آج پارٹی ہے اس کے گھر ، اسی کے ساتھ جا رہی ہوں بتایا تو تھا آپ کو
کل“۔ وہ کھڑے کھڑے بتا رہی تھی۔ لہجے میں عجلت واضح تھی۔ ان کی نظر اس کے حلیے پر گئی
اور ماتھے پر تیوری آئی۔
”عبایہ
کیوں نہیں پہنا تم نے؟“۔ اسے یوں دیکھ کر اب انہیں غصہ ہی آ گیا۔
”اگر
ابھی عبایہ پہن لیا تو سارا ہیئر سٹائل خراب ہو جائے گا ، اور وہاں اتاروں گی تو بھی
ہو جائے گا کتنی مشکل سے تو بنایا ہے میں نے“۔ اسے راہِ راست سے بھٹکانے کے لیے اندر
سے فوری کوئی دھیمی سی آواز ابھری۔
”مماں
کل سے پہن لوں گی پکا“۔ اس نے سوچنے کے بعد جواب دیا پھر آگے بڑھنے لگی۔ اس کے ایمان
پر نفس غالب آ چکا تھا۔ جب کہ عروج بیگم اسے دیکھتی رہ گئیں۔ وہ روز کل کل کہا کرتی
تھی مگر اس کی وہ کل کبھی نہ آئی۔
”ایسے
جانا اچھا نہیں لگے گا بیٹا پہن لو“۔ انہوں نے متفکر ہو کر دوبارہ اسے سمجھایا۔ وہ
ایک لمحے کے لیے رکی پھر پیچھے کو مڑی۔
”پلیز
امی بس کریں اتنی مشکل سے تیار ہوئی ہوں میں اب چلتی ہوں اللہ حافظ“۔ تلخ لہجہ استعمال
کرتے ہوئے اس نے جواب دیا اور باہر نکل گئی۔ اس کا لہجہ عروج بیگم کے دل میں چاقو کی
طرح پیوست ہوا مگر اب وہ کر بھی کیا سکتی تھیں۔ کئی بار تو وہ نمرہ کو محبت و انبساط
سے سمجھا چکی تھیں مگر شاید نمرہ کا ایمان ہی کمزور پڑ چکا تھا تب ہی وہ ہمیشہ نفس
کو ترجیح دیتی۔
🔘-------------------------------------------------------
No comments:
Post a Comment
Please not enter spam links/website links in the comment box . Strictly forbidden.